Showing posts with label کلیم عثمانی. Show all posts
Showing posts with label کلیم عثمانی. Show all posts

Friday, 21 October 2016

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں

ملی ترانہ

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

ایک چمن کے پھول ہیں سارے، ایک گگن کے تارے
ایک سمندر میں گرتے ہیں سب دریاؤں کے دھارے
جدا جدا ہیں لہریں، سرگم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

ملی نغمہ

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہگزر تمہارے ہیں

Monday, 29 February 2016

رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا

رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا
کتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پُروائی کا
اڑتے لمحوں کے دامن میں تیری یاد کی خوشبو ہے
پچھلی رات کا چاند ہے یا ہے عکس تِری انگڑائی کا 
کب سے نجانے گلیوں گلیوں ساۓ کی صورت پھرتے ہیں
کس سے دل کی بات کریں ہم شہر ہے اس ہرجائی کا

جب سر شام کوئی یاد مچل جاتی ہے

جب سرِ شام کوئی یاد مچل جاتی ہے
دِل کے ویرانے میں اک شمع سی جل جاتی ہے
جب بھی آتا ہے کبھی ترکِ تمنا کا خیال
لے کے اک موج کہیں دور نکل جاتی ہے
یہ ہے مے خانہ یہاں وقت کا احساس نہ کر
گردشِ وقت یہاں جام میں ڈھل جاتی ہے

ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت

ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں
ہم نے کر کے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت
منہ چھپا کر آستیں میں دیر تک روتے رہے
رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت

Wednesday, 12 August 2015

تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں

فلمی گیت

تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں
پلکیں بِچھا دوں، ساری عمر بِتا دوں
تُو جو کہے تو تن من اپنا
تجھ پہ لٹا دوں ساری عمر بِتا دوں
تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں
پلکیں بچھا دوں ساری عمر بِتا دوں

خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرا دو

فلمی گیت

خاموش ہیں نظارے، اک بار مسکرا دو
کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سِکھا دو
خاموش ہیں نظارے

سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کے نہ تم اُٹھا دو
خاموش ہیں نظارے، اک بار مسکرا دو

Saturday, 3 January 2015

تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے

فلمی گیت

تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے 
لہریں بھی ہوئیں مستانی سی 
تیری زلف کو چھو کر آج ہوئی
خاموش ہوا دیوانی سی
٭٭٭٭٭٭
یہ روپ کا کُندن دہکا ہوا
یہ جسم کا چندن مہکا ہوا
الزام نہ دینا پھر مجھ کو
ہو جائے اگر نادانی سی

یہ جگمگاتی وادیاں یہ گنگناتی ندیاں

یہ جگمگاتی وادیاں
یہ گنگناتی ندیاں
یہ سرسبز کھیتیاں
یہ سر بلند چوٹیاں
میری زمیں کا حسن ہیں
میرے وطن کی شان ہیں
یہ جگمگاتی وادیاں

Friday, 28 February 2014

رات پھیلی ہے تیرے سرمئ آنچل کی طرح

رات پھیلی ہے تیرے، سُرمئی آنچل کی طرح
چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح
خشک پتوں کی طرح، لوگ اُڑے جاتے ہیں
شہر بھی اب تو نظر آتا ہے، جنگل کی طرح
پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مِری، بادل کی طرح