عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں کیا کہوں کریم سے بندے کو کیا ملا
سب کچھ ملا جو ایک شہِ دو سراﷺ ملا
روزِ حساب عیب معاصی کا پردہ پوش
ہم عاصیوں کو دامنِ آلِ عبا ملا
نکلی لحد میں دولتِ دیدارِ مصطفیٰﷺ
ہم خاک میں ملے تو درِ مدعا ملا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں کیا کہوں کریم سے بندے کو کیا ملا
سب کچھ ملا جو ایک شہِ دو سراﷺ ملا
روزِ حساب عیب معاصی کا پردہ پوش
ہم عاصیوں کو دامنِ آلِ عبا ملا
نکلی لحد میں دولتِ دیدارِ مصطفیٰﷺ
ہم خاک میں ملے تو درِ مدعا ملا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اگر پرتو فگن نور شہ ابرارﷺ ہو جاتا
جمالِ حق کا آئینہ در و دیوار ہو جاتا
جو مثلِ بوئے گیسو پھیلتا رنگ شب گیسو
گنہ گاروں کو ابرِ رحمتِ غفار ہو جاتا
چبھے پاؤں میں خار راہِ طیبہ کیا قیامت ہے
یہ کانٹا دل میں رہتا یا جگر کے پار ہو جاتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ رے شانِ حسنِ خدا ساز مصطفیٰﷺ
وہ ذات بے نیاز ہو اور نازِ مصطفیٰﷺ
اک بات ہے کہ ہاتھ میں باتیں کریں حجر
جنبش کرے اگر لبِ اعجازِ مصطفیٰﷺ
مرنے کو جانتے ہیں حیاتِ ابد ملی
جینے کو موت کہتے ہیں جانبازِ مصطفیٰﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایۂ ناز میں
کہ لگی ہو خاکِ در حضورؐ مری جبینِ نیاز میں
یہ ہے اپنا حالِ دلِ حزیں غمِ عشقِ شاہِ حجاز میں
کہ برنگِ شمع تمام عمر کٹی ہے سوز و گداز میں
جو ہر ایک دل میں اثر کرے وہ کلامِ شاہِ انامؐ ہے
کہ جسے عظیم خدا کہے وہ ہے خلق بندہ نواز میں
کس کا دل ہے جو تِرے حسن پہ شیدا نہ ہوا
صورتِ آئینہ حیران؛ تماشہ نہ ہوا
مجھ کو ہر وقت رہی فضلِ خدا پر امید
میں کسی حال میں مایوسِ تمنا نہ ہوا
اثرِ آہِ شرر بار نہ ہو کیا معنی
کچھ نہیں کھیل ہوا عشق کا سودا نہ ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حق کے پیارے عرش کے تارے صلی اللہ علیہ و سلم
آمنہ بی بی کے راج دلارے صلی اللہ علیہ و سلم
پہنچے فلک پر جب شہِ والا دیکھ کے ان کا قامت والا
حور و ملائک سب یہ پکارے صلی اللہ علیہ و سلم
واہ ری شانِ سیدِ والا، منہ سے ان کا نام جو نکلا
بن گئے بگڑے کام ہمارے صلی اللہ علیہ و سلم