Showing posts with label منصور فائز. Show all posts
Showing posts with label منصور فائز. Show all posts

Wednesday, 23 February 2022

کچھ تو کہیے کہ کیا ارادہ ہے

 کچھ تو کہیے کہ کیا ارادہ ہے

بوجھ ہمت سے کچھ زیادہ ہے

جس کو آنا ہے شوق سے آئے

صحنِ دل تو بہت کشادہ ہے

کوئی ملتی نہیں سواری کیا

جس کو دیکھو وہی پیادہ ہے

Sunday, 30 January 2022

سمندر کی جانب ہی چلتے رہیں گے

 سمندر کی جانب ہی چلتے رہیں گے

جو دریا ہیں رستے بدلتے رہیں گے

جو منظر مِری آنکھ میں چل رہے ہیں

سفر ہیں سفر میں ہی ڈھلتے رہیں گے

زمانہ کبھی ایک جیسا نہ ہو گا

شب و روز یوں ہی بدلتے رہیں گے

Tuesday, 18 January 2022

دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں

دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں

سوچو تو ایک یاد میں ٹھہرا ہوا ہوں میں

جانے یہ کیسی رات ہے راہ صفا میں آج

سوچا ہے تجھ کو یار تو اجلا ہوا ہوں میں

اک روز ڈھونڈ لیں گے مجھے صاحبان وحی

اک لوح آسمان پہ لکھا ہوا ہوں میں

Tuesday, 28 December 2021

اے حسن بے مثال ترے خال و خد کی خیر

 اے حسنِ بے مثال! تِرے خال و خد کی خیر

اے صاحب جمال! تِرے خال و خد کی خیر

دیکھیں گے اک نظر تجھے اور لوٹ جائیں گے

ہم کو نہ کل پہ ٹال، تِرے خال و خد کی خیر

ہر روز مانگتے ہیں تِرے واسطے دعا

تجھ پر نہ ہو زوال، تِرے خال و خد کی خیر

Saturday, 5 December 2020

کہیں پہ ہجر کا دکھ ہے کہیں وصال کا دکھ

 کہیں پہ ہِجر کا دُکھ ہے کہیں وصال کا دُکھ

مِری جبیں پہ ہوا ثبت ہر ملال کا دکھ

مجھے یہ ڈر ہے کہیں خودکشی نہ کر لو تم

تمہاری زیست میں آیا اگر زوال کا دکھ

وہ اک سوال کہ جس کا جواب دے نہ سکے

ہنوز کاٹتا رہتا ہے اس سوال کا دکھ

Tuesday, 24 November 2020

کاش مل جائے ہم مزاج کوئی

 کاش مل جائے ہم مزاج کوئی

میرے غم کا بھی ہو علاج کوئی

جاگ کر رات جب گزارنی ہو

ڈھونڈ لیتا ہوں کام کاج کوئی

اندر آنے کا در تو بند ہوا

کیسے دل پر کرے گا راج کوئی