کچھ تو کہیے کہ کیا ارادہ ہے
بوجھ ہمت سے کچھ زیادہ ہے
جس کو آنا ہے شوق سے آئے
صحنِ دل تو بہت کشادہ ہے
کوئی ملتی نہیں سواری کیا
جس کو دیکھو وہی پیادہ ہے
کچھ تو کہیے کہ کیا ارادہ ہے
بوجھ ہمت سے کچھ زیادہ ہے
جس کو آنا ہے شوق سے آئے
صحنِ دل تو بہت کشادہ ہے
کوئی ملتی نہیں سواری کیا
جس کو دیکھو وہی پیادہ ہے
سمندر کی جانب ہی چلتے رہیں گے
جو دریا ہیں رستے بدلتے رہیں گے
جو منظر مِری آنکھ میں چل رہے ہیں
سفر ہیں سفر میں ہی ڈھلتے رہیں گے
زمانہ کبھی ایک جیسا نہ ہو گا
شب و روز یوں ہی بدلتے رہیں گے
دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں
سوچو تو ایک یاد میں ٹھہرا ہوا ہوں میں
جانے یہ کیسی رات ہے راہ صفا میں آج
سوچا ہے تجھ کو یار تو اجلا ہوا ہوں میں
اک روز ڈھونڈ لیں گے مجھے صاحبان وحی
اک لوح آسمان پہ لکھا ہوا ہوں میں
اے حسنِ بے مثال! تِرے خال و خد کی خیر
اے صاحب جمال! تِرے خال و خد کی خیر
دیکھیں گے اک نظر تجھے اور لوٹ جائیں گے
ہم کو نہ کل پہ ٹال، تِرے خال و خد کی خیر
ہر روز مانگتے ہیں تِرے واسطے دعا
تجھ پر نہ ہو زوال، تِرے خال و خد کی خیر
کہیں پہ ہِجر کا دُکھ ہے کہیں وصال کا دُکھ
مِری جبیں پہ ہوا ثبت ہر ملال کا دکھ
مجھے یہ ڈر ہے کہیں خودکشی نہ کر لو تم
تمہاری زیست میں آیا اگر زوال کا دکھ
وہ اک سوال کہ جس کا جواب دے نہ سکے
ہنوز کاٹتا رہتا ہے اس سوال کا دکھ
کاش مل جائے ہم مزاج کوئی
میرے غم کا بھی ہو علاج کوئی
جاگ کر رات جب گزارنی ہو
ڈھونڈ لیتا ہوں کام کاج کوئی
اندر آنے کا در تو بند ہوا
کیسے دل پر کرے گا راج کوئی