شکستہ کشتی ہے لیکن اتر نہیں سکتا
میں اپنے عہد وفا سے مُکر نہیں سکتا
تُو اپنی چشمِ نوازش کو اور کھولتا جا
یہ میرا دل ہے مرے دوست بھر نہیں سکتا
کچھ اپنے ساتھ محبت، کچھ اپنے ساتھ وفا
میں چاہتا ہوں کروں، پھر بھی کر نہیں سکتا
شکستہ کشتی ہے لیکن اتر نہیں سکتا
میں اپنے عہد وفا سے مُکر نہیں سکتا
تُو اپنی چشمِ نوازش کو اور کھولتا جا
یہ میرا دل ہے مرے دوست بھر نہیں سکتا
کچھ اپنے ساتھ محبت، کچھ اپنے ساتھ وفا
میں چاہتا ہوں کروں، پھر بھی کر نہیں سکتا
سمٹ جاتا کیسے اور پھر کیسے بکھرتا تھا
ہماری زندگی میں کوئی کیسے رنگ بھرتا تھا
سمجھ رکھا ہے جس نے پانیوں کو اپنی ملکیت
کبھی آ کر مِرے دریاؤں سے اپنے مشکیزے بھرتا تھا
تیرا یہ دل ہی میرے واسطے پہلی پناہ گاہ ہے
میں ورنہ کب کسی کے آئینوں میں یوں سنورتا تھا
کون ہے سرپرست بھول گئے
لوگ عہد الست بھول گئے
تم نیا معرکہ سجاؤ گے
تم پُرانی شکست بھول گئے
ایک اچھا سا نام تھا اپنا
یار ہم بادہ مست بھول گئے
وقت پڑنے پہ کوئی ہات دِکھا دیتا ہے
مطلبی آدمی اوقات دکھا دیتا ہے
میں تِرے حسن کے دیباچے میں کھویا ہوا ہوں
تُو مجھے آخری صفحات دکھا دیتا ہے
نیند اُڑ جاتی ہے انسان کی پہلے ہفتے
ہِجر اپنے سبھی اثرات دکھا دیتا ہے
رکو کہ تم سے ذرا سا سوال پوچھنا ہے
بنے ہو کیسے ستارہ مثال پوچھنا ہے
مِرا تو عشق بہرحال رائیگاں ہی گیا
تِرا بھی حسن ہوا پائمال، پوچھنا ہے
خدانخواستہ رستے میں مل گیا تو اسے
سلام کرنا ہے میں نے نہ حال پوچھنا ہے
ہوتا ہے شبِ ہجر میں اس بات کا امکان
خوابوں کے جزیرے پہ ملاقات کا امکان
ہم ایسے فقیروں نے سرِ ذہن رکھا ہے
اک آنکھ سے بٹتی ہوئی خیرات کا امکان
ان ہونٹوں سے کی جاتی ہے دونوں کی توقع
تردید کا دھڑکا،۔ کبھی اثبات کا امکان