Showing posts with label خلیل حماد. Show all posts
Showing posts with label خلیل حماد. Show all posts

Tuesday, 26 March 2024

شکستہ کشتی ہے لیکن اتر نہیں سکتا

 شکستہ کشتی ہے لیکن اتر نہیں سکتا

میں اپنے عہد وفا سے مُکر نہیں سکتا

تُو اپنی چشمِ نوازش کو اور کھولتا جا

یہ میرا دل ہے مرے دوست بھر نہیں سکتا

کچھ اپنے ساتھ محبت، کچھ اپنے ساتھ وفا

میں چاہتا ہوں کروں، پھر بھی کر نہیں سکتا

Wednesday, 6 March 2024

سمٹ جاتا کیسے اور پھر کیسے بکھرتا تھا

 سمٹ جاتا کیسے اور پھر کیسے بکھرتا تھا

ہماری زندگی میں کوئی کیسے رنگ بھرتا تھا

سمجھ رکھا ہے جس نے پانیوں کو اپنی ملکیت

کبھی آ کر مِرے دریاؤں سے اپنے مشکیزے بھرتا تھا

تیرا یہ دل ہی میرے واسطے پہلی پناہ گاہ ہے

میں ورنہ کب کسی کے آئینوں میں یوں سنورتا تھا

Tuesday, 20 February 2024

کون ہے سرپرست بھول گئے

 کون ہے سرپرست بھول گئے

لوگ عہد الست بھول گئے

تم نیا معرکہ سجاؤ گے

تم پُرانی شکست بھول گئے

ایک اچھا سا نام تھا اپنا

یار ہم بادہ مست بھول گئے

Tuesday, 30 January 2024

وقت پڑنے پہ کوئی ہات دکھا دیتا ہے

 وقت پڑنے پہ کوئی ہات دِکھا دیتا ہے

مطلبی آدمی اوقات دکھا دیتا ہے

میں تِرے حسن کے دیباچے میں کھویا ہوا ہوں

تُو مجھے آخری صفحات دکھا دیتا ہے

نیند اُڑ جاتی ہے انسان کی پہلے ہفتے

ہِجر اپنے سبھی اثرات دکھا دیتا ہے

Friday, 8 July 2022

رکو کہ تم سے ذرا سا سوال پوچھنا ہے

 رکو کہ تم سے ذرا سا سوال پوچھنا ہے

بنے ہو کیسے ستارہ مثال پوچھنا ہے

مِرا تو عشق بہرحال رائیگاں ہی گیا

تِرا بھی حسن ہوا پائمال، پوچھنا ہے

خدانخواستہ رستے میں مل گیا تو اسے

سلام کرنا ہے میں نے نہ حال پوچھنا ہے

Sunday, 3 October 2021

ہوتا ہے شب ہجر میں اس بات کا امکان

 ہوتا ہے شبِ ہجر میں اس بات کا امکان

خوابوں کے جزیرے پہ ملاقات کا امکان

ہم ایسے فقیروں نے سرِ ذہن رکھا ہے

اک آنکھ سے بٹتی ہوئی خیرات کا امکان

ان ہونٹوں سے کی جاتی ہے دونوں کی توقع

تردید کا دھڑکا،۔ کبھی اثبات کا امکان