رکو کہ تم سے ذرا سا سوال پوچھنا ہے
بنے ہو کیسے ستارہ مثال پوچھنا ہے
مِرا تو عشق بہرحال رائیگاں ہی گیا
تِرا بھی حسن ہوا پائمال، پوچھنا ہے
خدانخواستہ رستے میں مل گیا تو اسے
سلام کرنا ہے میں نے نہ حال پوچھنا ہے
مجھے تو ویسے بڑا رنج ہے جدائی کا
تجھے بھی ہے کوئی اس پر ملال پوچھنا ہے
ملو گے پھر اسی برگد کی چھاؤں میں، مجھ سے
کرو گے ربط دوبارہ بحال پوچھنا ہے
خلیل الرحمٰن حماد
No comments:
Post a Comment