مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے
ہم تیرے مگر پھر بھی طلبگار رہیں گے
اے تشنگئ شوق!!ٓ بتا ہم تری خاطر
کب تک یونہی رسوا سرِ بازار رہیں گے
جل جائیں گے تپتے ہوئے صحرا میں مگر ہم
اوروں کے لیے سایۂ دیوار رہیں گے
مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے
ہم تیرے مگر پھر بھی طلبگار رہیں گے
اے تشنگئ شوق!!ٓ بتا ہم تری خاطر
کب تک یونہی رسوا سرِ بازار رہیں گے
جل جائیں گے تپتے ہوئے صحرا میں مگر ہم
اوروں کے لیے سایۂ دیوار رہیں گے
ایسے ہرجائی سے کوئی کس طرح یاری کرے
بھول کر اپنوں کو جو غیروں کی غمخواری کرے
سب کے آگے تو بنا پھرتا ہے وہ معصوم سا
جب ہمارے سامنے آئے تو مکاری کرے
وہ کلرکی سے ترقی پا کے افسر ہو گیا
حرکتیں لیکن ابھی تک وہ بھی بازاری کرے
کیا کیا دئیے ہیں زیست نے غم کچھ نہ پوچھیے
کتنے کیے گئے ہیں کرم کچھ نہ پوچھیے
آنکھوں میں اشک لب پہ تبسم جگر میں سوز
کیسے رکھا ہے غم کا بھرم کچھ نہ پوچھیے
اک پیکر حسیں کی پرستش کے واسطے
کیا کیا تراشے ہم نے صنم کچھ نہ پوچھیے
یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے
کہ میری روح میں اک آگ سی لگا دی ہے
اسیر لذت دنیا ہوا تو آپ ہوا
مجھے نمود کی خواہش نے یہ سزا دی ہے
میں ایسے لمحوں کو کیا نام دوں کہ جب میں نے
خود اپنے آپ کو شدت سے بد دعا دی ہے