Showing posts with label باسط عظیم. Show all posts
Showing posts with label باسط عظیم. Show all posts

Thursday, 25 December 2025

مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے

 مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے

ہم تیرے مگر پھر بھی طلبگار رہیں گے

اے تشنگئ شوق!!ٓ بتا ہم تری خاطر

کب تک یونہی رسوا سرِ بازار رہیں گے

جل جائیں گے تپتے ہوئے صحرا میں مگر ہم

اوروں کے لیے سایۂ دیوار رہیں گے

Monday, 5 May 2025

ایسے ہرجائی سے کوئی کس طرح یاری کرے

 ایسے ہرجائی سے کوئی کس طرح یاری کرے

بھول کر اپنوں کو جو غیروں کی غمخواری کرے

سب کے آگے تو بنا پھرتا ہے وہ معصوم سا

جب ہمارے سامنے آئے تو مکاری کرے

وہ کلرکی سے ترقی پا کے افسر ہو گیا

حرکتیں لیکن ابھی تک وہ بھی بازاری کرے

Wednesday, 12 May 2021

کیا کیا دئیے ہیں زیست نے غم کچھ نہ پوچھیے

کیا کیا دئیے ہیں زیست نے غم کچھ نہ پوچھیے

کتنے کیے گئے ہیں کرم کچھ نہ پوچھیے

آنکھوں میں اشک لب پہ تبسم جگر میں سوز

کیسے رکھا ہے غم کا بھرم کچھ نہ پوچھیے

اک پیکر حسیں کی پرستش کے واسطے

کیا کیا تراشے ہم نے صنم کچھ نہ پوچھیے

Saturday, 5 December 2020

یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے

یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے

کہ میری روح میں اک آگ سی لگا دی ہے

اسیر لذت دنیا ہوا تو آپ ہوا

مجھے نمود کی خواہش نے یہ سزا دی ہے

میں ایسے لمحوں کو کیا نام دوں کہ جب میں نے

خود اپنے آپ کو شدت سے بد دعا دی ہے