Saturday, 5 December 2020

یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے

یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے

کہ میری روح میں اک آگ سی لگا دی ہے

اسیر لذت دنیا ہوا تو آپ ہوا

مجھے نمود کی خواہش نے یہ سزا دی ہے

میں ایسے لمحوں کو کیا نام دوں کہ جب میں نے

خود اپنے آپ کو شدت سے بد دعا دی ہے

ندامتیں مرے ماضی سے کر رہی ہیں سوال

وہ ماہ و سال کی دولت کہاں لٹا دی ہے

عجیب طرح کی وہ داستاں ہے ہم نے جسے

کہیں سے یاد رکھی ہے کہیں بھلا دی ہے

اے رہروان رہ شوق خوف ہے کیسا

جو راستے میں تھی دیوار وہ گرا دی ہے


باسط عظیم

No comments:

Post a Comment