یہ کس نے آتش احساس کو ہوا دی ہے
کہ میری روح میں اک آگ سی لگا دی ہے
اسیر لذت دنیا ہوا تو آپ ہوا
مجھے نمود کی خواہش نے یہ سزا دی ہے
میں ایسے لمحوں کو کیا نام دوں کہ جب میں نے
خود اپنے آپ کو شدت سے بد دعا دی ہے
ندامتیں مرے ماضی سے کر رہی ہیں سوال
وہ ماہ و سال کی دولت کہاں لٹا دی ہے
عجیب طرح کی وہ داستاں ہے ہم نے جسے
کہیں سے یاد رکھی ہے کہیں بھلا دی ہے
اے رہروان رہ شوق خوف ہے کیسا
جو راستے میں تھی دیوار وہ گرا دی ہے
باسط عظیم
No comments:
Post a Comment