آج کل کچھ عجیب سلسلہ ہے
جہاں جہاں تم نے
ہونٹوں سے محبت کے سجدے کئے تھے
وہاں وہاں پھول اگنے لگے ہیں
آنکھوں کے اوپر
ماتھے پہ
ہونٹوں کے کونوں پہ
گردن کی اطراف
یہاں، وہاں ، اِدھر، اُدھر
آئینہ دیکھوں تو لگتا ہے گلدستہ تک رہی ہوں
مگر
ایک اور عجیب سلسلہ بھی ہے
اپنی شہادت کی انگلی سے تم نے
کمر کے خموں پر جو
زگ زیگ سی لکیریں کھینچی تھیں
وہ لکیریں
اور وہ سرسراتا ہوا لمس ناگن بن گیا ہے
ڈسنے لگا ہے
دیکھو! اب تمہیں آنا پڑے گا
اسے پہلے کہ یہ ناگن سی سرسراہٹ میری جان لے لے
پھر سے واپس آؤ
اور
ادھر سے ادھر سرسراتے لمس پہ انگلی پھیرو
کہ
اس کم بخت ناگن کا پھن مر جائے
رفعت جبیں
No comments:
Post a Comment