Saturday, 5 December 2020

آج کل کچھ عجیب سلسلہ ہے

 آج کل کچھ عجیب سلسلہ ہے

جہاں جہاں تم نے

ہونٹوں سے محبت کے سجدے کئے تھے

وہاں وہاں پھول اگنے لگے ہیں

آنکھوں کے اوپر

ماتھے پہ

ہونٹوں کے کونوں پہ

گردن کی اطراف

یہاں، وہاں ، اِدھر، اُدھر


آئینہ دیکھوں تو لگتا ہے گلدستہ تک رہی ہوں

مگر

ایک اور عجیب سلسلہ بھی ہے

اپنی شہادت کی انگلی سے تم نے

کمر کے خموں پر جو

زگ زیگ سی لکیریں کھینچی تھیں

وہ لکیریں

اور وہ سرسراتا ہوا لمس ناگن بن گیا ہے

ڈسنے لگا ہے

دیکھو! اب تمہیں آنا پڑے گا

اسے پہلے کہ یہ ناگن سی سرسراہٹ میری جان لے لے

پھر سے واپس آؤ

اور

ادھر سے ادھر سرسراتے لمس پہ انگلی پھیرو

کہ

اس کم بخت ناگن کا پھن مر جائے


رفعت جبیں

No comments:

Post a Comment