Showing posts with label سعید شارق. Show all posts
Showing posts with label سعید شارق. Show all posts

Tuesday, 15 July 2025

کہنے لگا یہ غار حرا کوہ طور سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہنے لگا یہ، غارِ حِرا، کوہِ طُور سے

مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا، حضورؐ سے

کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ

تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے

انسان، رب کو سب سے زیادہ عزیز ہے

ظاہر ہُوا یہ راز انہیؐ کے ظہور سے

Thursday, 22 August 2024

کہنے لگا یہ غار حرا کوہ طور سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے

مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا، حضورؐ سے

کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ

تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے

انسان، رب کو سب سے زیادہ عزیز ہے

ظاہر ہُوا یہ راز انہیؐ کے ظہور سے 

Wednesday, 17 April 2024

رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں

 رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں

میں باغِ ہجر سے ہر شام پھول توڑتا ہوں

یہ اور بات کبھی جاگتے نہیں ہیں ہم

اُسے ہلاتا ہوں، خود کو کبھی جھنجوڑتا ہوں

کوئی بھی چاہے تو آسانی سے چھڑا لے جائے

اب ایک ہاتھ پکڑتا ہوں ایک چھوڑتا ہوں

Friday, 31 March 2023

دفعتاً گال پہ اک بوند گری ٹوٹ گئی

 دفعتاً گال پہ اک بوند گِری، ٹُوٹ گئی

کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئی

کون سمجھاتا کہ یوں وقت کہاں لوٹتا ہے

سُوئیاں اتنی گُھمائیں کہ گھڑی ٹوٹ گئی

چاپ لگتی رہی قدموں کی، ہتھوڑوں کی طرح

تُو گیا اور مِرے گھر کی گلی ٹوٹ گئی

Friday, 25 June 2021

سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے

 سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے

خیر اب چُپ بھی کہاں مجھ کو بھلی لگتی ہے

دوسرے رنگ نظر ہی نہیں آتے مجھ کو

زرد ایسا ہوں کہ ہر چیز ہری لگتی ہے

ایک ہی عمر ہے دونوں کی مگر دیکھنے میں

میری تنہائی ذرا مجھ سے بڑی لگتی ہے

Monday, 19 October 2020

کرچیاں اتنی ہیں کم کم نظر آتا ہے مجھے

 کرچیاں اتنی ہیں، کم کم نظر آتا ہے مجھے

خواب کیا ٹوٹے کہ مدھم نظر آتا ہے مجھے

ہاتھ سے کرتا ہوں محسوس خد و خالِ طرب

کیسا اندھا ہوں کہ بس غم نظر آتا ہے مجھے

بوکھلایا ہوا پھرتا ہوں میں آنکھیں میچے

بیٹھے بیٹھے کوئی یک دم نظر آتا ہے مجھے

Saturday, 3 October 2020

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

 نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

اتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے

خبر نہ تھی کہ جھکا دے گا میرے شانوں کو

جو بوجھ گھٹتا چلا جا رہا تھا سینے سے

سمندروں پہ مِری حکمرانی چلتی تھی

پھر ایک جل پری ٹکرا گئی سفینے سے

Thursday, 6 February 2020

میں نے ہونٹوں سے اسے دیکھا بہت

گرچہ کمرے میں اندھیرا تھا بہت
میں نے ہونٹوں سے اسے دیکھا بہت
کب تلک آباد رہتیں کشتیاں
مجھ میں دریا کم تھے اور صحرا بہت
آئینہ دیکھا تو مایوسی ہوئی
میں تو اب بھی ویسا ہوں تھوڑا بہت

وقت کر دے نہ کہیں داغ میں تبدیل مجھے

وقت کر دے نہ کہیں داغ میں تبدیل مجھے
دیکھ! بھرتا چلا جاتا ہوں ابھی چھیل مجھے
جمع کرتا ہوں یہ رس کانٹوں سے قطرہ قطرہ
اتنی آساں بھی نہیں رنج کی تحصیل مجھے
کبھی دیوار سے تصویر اتاری تھی کوئی
اب کہیں دیکھوں تو چبھتی ہے کوئی کیل مجھے

Wednesday, 11 April 2018

وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں

وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
صبح بھی خرچ ہوئی رات کی تیاری میں
کتنی مشکل سے ملی مجھ کو کلیدِ درِ چشم
اور اب دیکھا تو کچھ بھی نہیں الماری میں
اس کو تکنا تھا کہ آنکھوں کی تھکن ختم ہوئی
آخرش نیند مکمل ہوئی بیداری میں

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے

سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے
کیا درانتی ہے کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے
ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی
اب مِری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے
تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگِ سکوت
جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے

زندگی گھٹنے کی رفتار بڑھی ہے کہ نہیں

زندگی گھٹنے کی رفتار بڑھی ہے کہ نہیں
یہ بتانے کے لیے کوئی گھڑی ہے کہ نہیں
شور سے محض خموشی ہی نہ ٹوٹی ہو گی
جانے کمرے میں کوئی چیز بچی ہے کہ نہیں
پیڑ کے کان میں اک بات کہی تھی میں نے
پھول بکھرے کہ نہیں، شاخ کٹی ہے کہ نہیں

Friday, 9 December 2016

میں جی رہا ہوں کہ ماتم بھی ہو چکا میرا

میں جی رہا ہوں کہ ماتم بھی ہو چکا میرا
سنا ہے جان بہ لب تھا ،سو کیا بنا میرا
بس اپنی منزلِ گمنام تک پہنچ لوں میں
یہ راہ ڈھونڈتی آئے گی پھر پتا میرا
تجھے کہا نا اداسی کی وجہ کوئی نہیں
خدا کا واسطہ ہے یار! سر نہ کھا میرا

اس سے پہلے کہ در صبح پہ مارے جائیں

اس سے پہلے کہ درِ صبح پہ مارے جائیں
کچھ ستارے مِرے سینے سے گزارے جائیں
بار بار آنکھوں سے گزرے وہ ادھورا چہرہ
نام تک یا د نہ ہو،۔ اور پکارے جائیں
سرد موسم کی ہواؤں سے الجھتے ہوئے پات
میں سہاروں انہیں وہ مجھ کو سہارے جائیں

آنکھیں اپنی تھیں غم اپنا تھا نمی اپنی تھی

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا، نمی اپنی تھی
ہونٹ جس کےبھی تھے لیکن وہ ہنسی اپنی تھی
ہر طرف چہرے تھے، کھلتے ہوئے روشن چہرے
اور ان پھولوں میں اک بند کلی اپنی تھی
یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پر
وقت اپنا تھا کسی کا نہ گھڑی اپنی تھی

سینہ کوبی سے ہوئی حوصلہ افزائی بھی

سینہ کوبی سے ہوئی حوصلہ افزائی بھی
میں تماشا بھی بنا،۔ اور تماشائی بھی
کتنی لہریں تِرے اندر سے رواں تھیں مجھ میں
سو تِرے ساتھ ہوئی کم مِری گہرائی بھی
قفسِ وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
پھڑپھڑاتا ہے بہت، طائرِ تنہائی بھی

ایاغ خواب میں آنکھوں کا رس گھولا نہ جائے

ایاغِ خواب میں آنکھوں کا رس گھولا نہ جائے
بہت کچھ دیکھنا چاہوں، مگر دیکھا نہ جائے
تمازت اس قدر ہو اپنے ہونے کے یقیں کی
کسی نخلِ گماں کے سائے میں بیٹھا نہ جائے
یہ جس کروٹ پہ ہم ہیں اس طرف دیواریں کم ہیں
جگہ کتنی ہے گر پہلو کبھی بدلا نہ جائے

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

اشک کیسے، یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
خوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے
اجنبیت بھری آواز، یہ بدلے ہوئے نقش
مسئلہ میرا ہے، بستی تو وہی نکلی ہے
تین حصوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میرا
تیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے

نہ جانے کب تلک یہ کیفیت طاری رہے گی

نہ جانے کب تلک یہ کیفیت طاری رہے گی
یہ خالی گٹھڑی کتنی دیر تک بھاری رہے گی
تِری آواز کی ٹھوکر ہو یا ضربِ خموشی
کوئی بھی چوٹ ہو میرے لیے کاری رہے گی
دہانے تک پہنچ آئے ہیں کچھ پتھر لڑھک کر
مگر یہ نہر سینے سے یونہی جاری رہے گی

کوئی کرتا ہے کہاں حوصلہ افزائی بھی

کوئی کرتا ہے کہاں حوصلہ افزائی بھی
میں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی
کتنی لہریں تھیں جو مشترکہ تھیں ہم دونوں میں
سو تِرے ساتھ ہوئی کم مِری گہرائی بھی
قفسِ وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
پھڑپھڑاتا ہے بہت، طائرِ تنہائی بھی