عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہنے لگا یہ، غارِ حِرا، کوہِ طُور سے
مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا، حضورؐ سے
کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ
تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے
انسان، رب کو سب سے زیادہ عزیز ہے
ظاہر ہُوا یہ راز انہیؐ کے ظہور سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہنے لگا یہ، غارِ حِرا، کوہِ طُور سے
مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا، حضورؐ سے
کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ
تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے
انسان، رب کو سب سے زیادہ عزیز ہے
ظاہر ہُوا یہ راز انہیؐ کے ظہور سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے
مِلنے کا اشتیاق تو ہو گا، حضورؐ سے
کیسے مِلائے نُور سے نظریں، یہ رُوسیاہ
تکتا ہوں اُنؐ کا روضہ مگر دُور دُور سے
انسان، رب کو سب سے زیادہ عزیز ہے
ظاہر ہُوا یہ راز انہیؐ کے ظہور سے
رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
میں باغِ ہجر سے ہر شام پھول توڑتا ہوں
یہ اور بات کبھی جاگتے نہیں ہیں ہم
اُسے ہلاتا ہوں، خود کو کبھی جھنجوڑتا ہوں
کوئی بھی چاہے تو آسانی سے چھڑا لے جائے
اب ایک ہاتھ پکڑتا ہوں ایک چھوڑتا ہوں
دفعتاً گال پہ اک بوند گِری، ٹُوٹ گئی
کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئی
کون سمجھاتا کہ یوں وقت کہاں لوٹتا ہے
سُوئیاں اتنی گُھمائیں کہ گھڑی ٹوٹ گئی
چاپ لگتی رہی قدموں کی، ہتھوڑوں کی طرح
تُو گیا اور مِرے گھر کی گلی ٹوٹ گئی
سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے
خیر اب چُپ بھی کہاں مجھ کو بھلی لگتی ہے
دوسرے رنگ نظر ہی نہیں آتے مجھ کو
زرد ایسا ہوں کہ ہر چیز ہری لگتی ہے
ایک ہی عمر ہے دونوں کی مگر دیکھنے میں
میری تنہائی ذرا مجھ سے بڑی لگتی ہے
کرچیاں اتنی ہیں، کم کم نظر آتا ہے مجھے
خواب کیا ٹوٹے کہ مدھم نظر آتا ہے مجھے
ہاتھ سے کرتا ہوں محسوس خد و خالِ طرب
کیسا اندھا ہوں کہ بس غم نظر آتا ہے مجھے
بوکھلایا ہوا پھرتا ہوں میں آنکھیں میچے
بیٹھے بیٹھے کوئی یک دم نظر آتا ہے مجھے
نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے
اتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے
خبر نہ تھی کہ جھکا دے گا میرے شانوں کو
جو بوجھ گھٹتا چلا جا رہا تھا سینے سے
سمندروں پہ مِری حکمرانی چلتی تھی
پھر ایک جل پری ٹکرا گئی سفینے سے