سینہ کوبی سے ہوئی حوصلہ افزائی بھی
میں تماشا بھی بنا،۔ اور تماشائی بھی
کتنی لہریں تِرے اندر سے رواں تھیں مجھ میں
سو تِرے ساتھ ہوئی کم مِری گہرائی بھی
قفسِ وصل میں سب شور ہمارا تو نہیں
اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانند
میری کمزوری بھی ہے اور توانائی بھی
یوں نہ ہو شہرِ بصارت کی طرف مڑ جائے
شور اتنا ہے کہ لے جائے گا بینائی بھی
کون سمجھے مِری ویرانی و آبادی کو
جھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی
بانسری کی وہی دھن کیسے سناتے ہیں مجھے
ڈھول بھی، پیانو بھی، سارنگی بھی، شہنائی بھی
میں نے تحفے میں نئے رنج کی چادر شارقؔ
صرف لائی ہی نہیں،۔ خود اسے پہنائی بھی
سعید شارق
No comments:
Post a Comment