آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا، نمی اپنی تھی
ہونٹ جس کےبھی تھے لیکن وہ ہنسی اپنی تھی
ہر طرف چہرے تھے، کھلتے ہوئے روشن چہرے
اور ان پھولوں میں اک بند کلی اپنی تھی
یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پر
پھر مجھے گھیر لیا اجنبی آوازوں نے
اور اس بار ہر آواز مِری اپنی تھی
اپنی اپنی نظر آتی تھی وہ کھڑکی لیکن
کوئی گھر اپنا رہا تھا نہ گلی اپنی تھی
تیرے ہونے سے زیادہ تھا نہ ہونا میرا
اب یہ جانا ہے کہ مجھ کو تو کمی اپنی تھی
ایسی دنیا میں مکاں کون بناتا شارقؔ
جو پرائی تھی کبھی اور کبھی اپنی تھی
سعید شارق
No comments:
Post a Comment