Showing posts with label عتیق واصل. Show all posts
Showing posts with label عتیق واصل. Show all posts

Thursday, 10 August 2023

گڑھے مردے اکھاڑو گے عفونت پھیل جائے گی

 گڑھے مردے اکھاڑو گے، عفونت پھیل جائے گی

جو ماضی کو کریدو گے، نحوست پھیل جائے گی

جفا کا سوچنا بھی مت، وگرنہ اگلی نسلوں میں

محبت کی امانت میں، خیانت پھیل جائے گی

جو ماضی تھا وہ ماضی تھا، ابھی تو سب تمہارا ہے

یقیں کر لو، یقیں جانو محبت پھیل جائے گی

Thursday, 15 September 2022

رات کا پچھلا پہر ہے خامشی ہے اور میں ہوں

 میں اور میرے ہمسفر


رات کا پچھلا پہر ہے، خامشی ہے اور میں ہوں

چودھویں کا چاند بھی ہے، چاندنی ہے اور میں ہوں

ایک مصرع میں کہوں کیا زندگی بھر کی سوانح

دشتِ بے آب و گیا ہے، تشنگی ہے اور میں ہوں

قبر پر نامِ خدا و مصطفیٰﷺ کے بعد لکھنا

”بس یہی دو گز زمیں ہے، سروری ہے اور میں ہوں“

Tuesday, 6 September 2022

زمان بھی حسین کا مکان بھی حسین کا

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ


زمان بھی حسینؑ کا، مکان بھی حسینؑ کا

ہے کربلا کے بعد کل جہان بھی حسینؑ کا

فرات سے دمشق تک دمشق سے حجاز تک

گلی گلی میں تذکرہ ہے آج بھی حسینؑ کا

نمازِ حُر پہ آج تک نماز کو بھی ناز ہے

جو کربلا میں ہو گیا تھا مقتدی بھی حسینؑ کا

Monday, 5 September 2022

حسین ذی وقار ہے حسین شہسوار ہے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ


حسینؑ ذی وقار ہے، حسینؑ شہسوار ہے

حسینؑ ہی قرار ہے، حسینؑ سے بہار ہے

حسینؑ میرا چین ہے، حسینؑ نورِ عین ہے

حسینؑ بس حسینؑ ہے، حسینؑ غمگسار ہے

عرب بھی سب حسینؑ کا، عجم بھی سب حسینؑ کا

حسینؑ شاہِ کربلا، حسینؑ شہریار ہے

Sunday, 4 September 2022

مبتلائے قیامت ہے میرا وطن

 پاکستان کا ٪40 رقبہ اس صدی کے سب سے تباہ کن سیلاب کی زد میں ہے خدارا متاثرین کی حتی المقدور امداد کیجیے


مبتلائے قیامت ہے میرا وطن

زیرِ بارِ مصیبت ہے میرا وطن

ایک سیلاب نے سب تباہ کر دیا

بے بسی کی علامت ہے میرا وطن

ہر طرف آہ و رنج و الم کی فضا

سسکیوں کی حکایت ہے میرا وطن

Saturday, 18 September 2021

احوال ملاقات کا تکرار کروں گا

 احوالِ ملاقات کا تکرار کروں گا

واصل ہوں، فقط وصل کا پرچار کروں گا

مصلوب تھا حلاج، مگر محوِ ثنا تھا

حلاج ہوں میں، تذکرۂ یار کروں گا

سجدے ہیں مِرے یار کے دیدار کی خاطر

سجدوں میں اسی چاہ کا اظہار کروں گا