گڑھے مردے اکھاڑو گے، عفونت پھیل جائے گی
جو ماضی کو کریدو گے، نحوست پھیل جائے گی
جفا کا سوچنا بھی مت، وگرنہ اگلی نسلوں میں
محبت کی امانت میں، خیانت پھیل جائے گی
جو ماضی تھا وہ ماضی تھا، ابھی تو سب تمہارا ہے
یقیں کر لو، یقیں جانو محبت پھیل جائے گی
گڑھے مردے اکھاڑو گے، عفونت پھیل جائے گی
جو ماضی کو کریدو گے، نحوست پھیل جائے گی
جفا کا سوچنا بھی مت، وگرنہ اگلی نسلوں میں
محبت کی امانت میں، خیانت پھیل جائے گی
جو ماضی تھا وہ ماضی تھا، ابھی تو سب تمہارا ہے
یقیں کر لو، یقیں جانو محبت پھیل جائے گی
میں اور میرے ہمسفر
رات کا پچھلا پہر ہے، خامشی ہے اور میں ہوں
چودھویں کا چاند بھی ہے، چاندنی ہے اور میں ہوں
ایک مصرع میں کہوں کیا زندگی بھر کی سوانح
دشتِ بے آب و گیا ہے، تشنگی ہے اور میں ہوں
قبر پر نامِ خدا و مصطفیٰﷺ کے بعد لکھنا
”بس یہی دو گز زمیں ہے، سروری ہے اور میں ہوں“
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
زمان بھی حسینؑ کا، مکان بھی حسینؑ کا
ہے کربلا کے بعد کل جہان بھی حسینؑ کا
فرات سے دمشق تک دمشق سے حجاز تک
گلی گلی میں تذکرہ ہے آج بھی حسینؑ کا
نمازِ حُر پہ آج تک نماز کو بھی ناز ہے
جو کربلا میں ہو گیا تھا مقتدی بھی حسینؑ کا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
حسینؑ ذی وقار ہے، حسینؑ شہسوار ہے
حسینؑ ہی قرار ہے، حسینؑ سے بہار ہے
حسینؑ میرا چین ہے، حسینؑ نورِ عین ہے
حسینؑ بس حسینؑ ہے، حسینؑ غمگسار ہے
عرب بھی سب حسینؑ کا، عجم بھی سب حسینؑ کا
حسینؑ شاہِ کربلا، حسینؑ شہریار ہے
پاکستان کا ٪40 رقبہ اس صدی کے سب سے تباہ کن سیلاب کی زد میں ہے خدارا متاثرین کی حتی المقدور امداد کیجیے
مبتلائے قیامت ہے میرا وطن
زیرِ بارِ مصیبت ہے میرا وطن
ایک سیلاب نے سب تباہ کر دیا
بے بسی کی علامت ہے میرا وطن
ہر طرف آہ و رنج و الم کی فضا
سسکیوں کی حکایت ہے میرا وطن
احوالِ ملاقات کا تکرار کروں گا
واصل ہوں، فقط وصل کا پرچار کروں گا
مصلوب تھا حلاج، مگر محوِ ثنا تھا
حلاج ہوں میں، تذکرۂ یار کروں گا
سجدے ہیں مِرے یار کے دیدار کی خاطر
سجدوں میں اسی چاہ کا اظہار کروں گا