میں اور میرے ہمسفر
رات کا پچھلا پہر ہے، خامشی ہے اور میں ہوں
چودھویں کا چاند بھی ہے، چاندنی ہے اور میں ہوں
ایک مصرع میں کہوں کیا زندگی بھر کی سوانح
دشتِ بے آب و گیا ہے، تشنگی ہے اور میں ہوں
قبر پر نامِ خدا و مصطفیٰﷺ کے بعد لکھنا
”بس یہی دو گز زمیں ہے، سروری ہے اور میں ہوں“
کاسۂ قرطاس لا، خیرات میں الفاظ لے جا
روشنائی ہے، قلم ہے، شاعری ہے اور میں ہوں
سب مجھے تنہا سمجھتے ہیں، مگر لو سچ سنو تم
آئینہ ہے، اس میں کوئی اجنبی ہے اور میں ہوں
کوئی منزل ہے میسّر، نہ ہی منزل کا نشاں ہے
اک مسلسل راستہ ہے، رہروی ہے اور میں ہوں
جام کی ہے کوئی حاجت، نہ ہی مینا کی ضرورت
آج ساقی سامنے ہے، بے خودی ہے اور میں ہوں
نوجوانی کب سے واصل ڈھل چکی ہے، اب جو ہے بس
فیملی ہے، نوکری ہے، زندگی ہے اور میں ہوں
عتیق واصل
No comments:
Post a Comment