اب جدھر بھی جاتے ہیں
پہلے ایسا ہوتا تھا
بھانت بھانت کے بندر
شہر کی فصیلوں پر
محفلیں جماتے تھے
گھر میں کود آتے تھے
اب جدھر بھی جاتے ہیں
پہلے ایسا ہوتا تھا
بھانت بھانت کے بندر
شہر کی فصیلوں پر
محفلیں جماتے تھے
گھر میں کود آتے تھے
گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں
گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا
مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں
نہا کر بھیگے بالوں کو سُکھاتی
چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں
تلاش
ایک آنکھ تھی آدھے لب تھے
اور اک چوٹی لمبی سی
ایک کان میں چمک رہی تھی
چاند سی بالی پڑی ہوئی
ایک حنائی ہاتھ تھا جس میں
گھر نے اپنا ہوش سنبھالا، دن نکلا
کھڑکی میں بھر گیا اجالا، دن نکلا
لال گلابی ہُوا اُفق کا دروازہ
ٹُوٹ گیا سُورج کا تالا، دن نکلا
پیڑوں پہ چُپ رہنے والی راگ گئی
شاخ شاخ پہ بولنے والا، دن نکلا
آگے مت سوچو
سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ
ایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ
دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دو
جب وہ سامنے آئے تو پَرنام کرو
میں کچھ بھول گیا ہوں شاید، اس سے کہو
اب جدھر بھی جاتے ہیں
پہلے ایسا ہوتا تھا
بھانت بھانت کے بندر
شہر کی فصیلوں پر
محفلیں جماتے تھے
گھر میں کود آتے تھے
سردی میں دن سرد ملا
ہر موسم بے درد ملا
سوچتے ہیں کیوں زندہ ہیں
اچھا یہ سر درد ملا
ہم روئے تو بات بھی تھی
کیوں روتا ہر فرد ملا
ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو
اکیلا چھوڑ کے تو بھی کہاں چلا مجھ کو
میں کب سے ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اپنی قسمت کو
یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ذرا دکھا مجھ کو
دہکتی جلتی ہوئی دوپہر ملی لیکن
کسی درخت کا سایا نہ مل سکا مجھ کو
چاند پر
وہاں کون تھا؟
کس سے کہتے کہ ہم
بستیوں میں رہے پر اکیلے رہے
کس سے کہتے کہ ہم
چھوڑ کر بستیاں بھاگ کر آئے ہیں