Showing posts with label محمد علوی. Show all posts
Showing posts with label محمد علوی. Show all posts

Sunday, 1 January 2023

اب جدھر بھی جاتے ہیں آدمی کو پاتے ہیں

 اب جدھر بھی جاتے ہیں


پہلے ایسا ہوتا تھا

بھانت بھانت کے بندر

شہر کی فصیلوں پر

محفلیں جماتے تھے

گھر میں کود آتے تھے

Sunday, 10 July 2022

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

 گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں

گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا

مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں

نہا کر بھیگے بالوں کو سُکھاتی

چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں

Thursday, 28 April 2022

ایک آنکھ تھی آدھے لب تھے

 تلاش


ایک آنکھ تھی آدھے لب تھے

اور اک چوٹی لمبی سی

ایک کان میں چمک رہی تھی

چاند سی بالی پڑی ہوئی

ایک حنائی ہاتھ تھا جس میں

Sunday, 24 April 2022

گھر نے اپنا ہوش سنبھالا دن نکلا

 گھر نے اپنا ہوش سنبھالا، دن نکلا

کھڑکی میں بھر گیا اجالا، دن نکلا

لال گلابی ہُوا اُفق کا دروازہ

ٹُوٹ گیا سُورج کا تالا، دن نکلا

پیڑوں پہ چُپ رہنے والی راگ گئی

شاخ شاخ پہ بولنے والا، دن نکلا

Saturday, 26 March 2022

سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ

 آگے مت سوچو


سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ

ایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ

دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دو

جب وہ سامنے آئے تو پَرنام کرو

میں کچھ بھول گیا ہوں شاید، اس سے کہو

Tuesday, 22 March 2022

اب جدھر بھی جاتے ہیں آدمی کو پاتے ہیں

 اب جدھر بھی جاتے ہیں


پہلے ایسا ہوتا تھا

بھانت بھانت کے بندر

شہر کی فصیلوں پر

محفلیں جماتے تھے

گھر میں کود آتے تھے

Tuesday, 26 January 2021

سردی میں دن سرد ملا

 سردی میں دن سرد ملا

ہر موسم بے درد ملا

سوچتے ہیں کیوں زندہ ہیں 

اچھا یہ سر درد ملا 

ہم روئے تو بات بھی تھی 

کیوں روتا ہر فرد ملا 

Thursday, 19 November 2020

ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو

 ہوا چلی تو مرے جسم نے کہا مجھ کو

اکیلا چھوڑ کے تو بھی کہاں چلا مجھ کو

میں کب سے ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اپنی قسمت کو

یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ذرا دکھا مجھ کو

دہکتی جلتی ہوئی دوپہر ملی لیکن

کسی درخت کا سایا نہ مل سکا مجھ کو

Monday, 2 November 2020

بستیوں میں رہے پر اکیلے رہے

 چاند پر


وہاں کون تھا؟

کس سے کہتے کہ ہم

بستیوں میں رہے پر اکیلے رہے

کس سے کہتے کہ ہم

چھوڑ کر بستیاں بھاگ کر آئے ہیں

Sunday, 6 September 2020

تخلیق

تخلیق

ایک زنگ آلودہ
توپ کے دہانے پر
ننھی منی چڑیا نے
گھونسلہ بنایا ہے

محمد علوی

Saturday, 5 September 2020

نیند آتی ہے کھلی آنکھ سے ڈر جاتی ہے

رات

نیند آتی ہے کھلی آنکھ سے ڈر جاتی ہے
سہمی سہمی ہوئی چپ چاپ گزر جاتی ہے
خامشی گھومتی رہتی ہے کھلی محفل میں
نیم کا پیڑ اکیلا ہی کھڑا رہتا ہے
چیخ اٹھتا ہے پرندہ کوئی سوۓ سوۓ
صبح کر دیتی ہے شبنم یوں ہی روتے روتے

محمد علوی

جل مرنے سے پہلے

جل مرنے سے پہلے

کھڑکی بند کرو
دروازہ مت کھولو
بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو
شور گلی تک آ پہنچا ہے
جل مرنے سے پہلے
آؤ گلے مل کر رو لو

محمد علوی

فالج زدہ شہر

فالج زدہ شہر

ایک ہاتھ
اور ایک پاؤں
اور آدھا چہرہ
آدھے شہر میں
کرفیو اور پولیس کا پہرہ

محمد علوی

Friday, 4 September 2020

دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیں

شکست

دیواریں، دروازے، دریچے گم سم ہیں
باتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیں
ہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیں
روز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیں
پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئے
برتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے

رات کو سونے سے پہلے

ڈپریشن

رات کو سونے سے پہلے
ایسی جان لیوا فکروں میں
سارا دن ڈوبا رہتا ہوں
رات کو سونے سے پہلے
اپنے آپ سے کہتا ہوں

قبر میں اترتے ہی

کتبہ

قبر میں اترتے ہی
میں آرام سے دراز ہو گیا
اور سوچا
یہاں مجھے
کوئی خلل نہیں پہنچاۓ گا

Thursday, 3 September 2020

آج ہوں کل نہیں ہوں

میں اور تو

آج ہوں
کل نہیں ہوں
خداوند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
مگر آج اک بات کہنی ہے تجھ سے
کہ میں آج ہوں
کل نہیں ہوں

اے خدا میں سمجھتا تھا تو ایک ظالم ہے

انتساب
(خدا کے نام جس کے نہ ہونے کا مجھے دکھ ہے )

خدا! اے خدا
میں سمجھتا تھا تُو
ایک ظالم ہے جو
مجھ پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے

خدا سات آسمانوں سے بھی اوپر

پاگل

خدا سات آسمانوں سے بھی اوپر
خدا تنہائی کے ملبے کے نیچے
خدا آگے بہت آگے کھڑا ہے
خدا پیچھے، ہزاروں سال پیچھے
بڑھے آتے ہیں پاگل میری جانب
خدا کو مارنے تلواریں کھینچے

محمد علوی

Tuesday, 1 September 2020

موت

موت

جسم کے
کسی تاریک کونے میں
الارم لگا کے
میٹھی نیند سوتی ہے
الارم بجے
دو بجے