Sunday, 10 July 2022

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

 گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں

گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا

مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں

نہا کر بھیگے بالوں کو سُکھاتی

چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں

حنائی ہاتھ دروازے سے باہر

اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں

بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے

کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں

حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علوی

تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں


محمد علوی

No comments:

Post a Comment