سنو جاناں
جولائی آ گیا ہے
گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں
کہ جن میں دھوپ نیزے کی انی بن کر
بدن کو چیرے جاتی ہے
ہوا کے لمس سے نا آشنا شامیں
ستاروں سے بھری راتیں
کہ جن میں نیند کی دیوی بھی اکتائی سی لگتی ہے
اسی بے کیف منظر میں
اچانک آسماں بادل کی چادر اوڑھ لیتا ہے
وہ چھاجوں مینہ برستا ہے
کہ منظر جھوم اٹھتا ہے
سنو جاناں
وہی موسم، وہی رُت ہے
کہ جب ایسے گھٹن اوڑھے ہوئے
دن کی برستی شام میں ہم تم
فضا کی گنگناہٹ روح میں محسوس کرتے تهے
کبھی بوندیں پکڑتے تھے
کبھی یوں مسکراتے تھے
کہ جیسے کان میں بارش نے کوئی بات کہہ دی ہو
سنو جاناں
وہی موسم، وہی رُت ہے
گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں
فضا بھی گنگناتی ہے
نجانے تم کہاں پر ہو
چلے بھی آؤ اب جاناں
تمہیں بارش بلاتی ہے
عاطف سعید
No comments:
Post a Comment