رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی
جنوں کی آگ بُجھی رہ گیا دُھواں باقی
میں کس کو حالِ پریشاں سناؤں کون سنے
کہاں ہے شہر میں اب کوئی ہمزباں باقی
یہ ساعتیں ہیں غنیمت گزار لیں ہمراہ
نہ پھر زمین نہ ہو گا یہ آسماں باقی
رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی
جنوں کی آگ بُجھی رہ گیا دُھواں باقی
میں کس کو حالِ پریشاں سناؤں کون سنے
کہاں ہے شہر میں اب کوئی ہمزباں باقی
یہ ساعتیں ہیں غنیمت گزار لیں ہمراہ
نہ پھر زمین نہ ہو گا یہ آسماں باقی
دھڑک گیا جو دل مِرا تو اس گھڑی لگا کہ بس
مِرے جنوں کا اک نظر میں وہ دیا صلہ کہ بس
میں پا بہ جولاں حد جسم و جان تک جب آ گیا
جنون خستہ پا کی پشت سے سنی صدا کہ بس
نہ. پوچھ جلوہ گاہ کی حکایتیں کرامتیں
نگاہ و دل کے درمیاں ہوا وہ معرکہ کہ بس
رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی
جنوں کی آگ بجھی رہ گیا دھواں باقی
میں کس کو حالِ پریشاں سناؤں کون سنے
کہاں ہے شہر میں اب کوئی ہمزباں باقی
یہ ساعتیں ہیں غنیمت گزار لیں ہمراہ
نہ پھر زمین نہ ہو گا، یہ آسماں باقی
مجھ کو اک عرصۂ دلگیر میں رکھا گیا تھا
زہر گویا کسی اکسیر میں رکھا گیا تھا
حاشیے متن سمجھ لے جو پڑھے قصۂ غم
انتظام ایسا بھی تحریر میں رکھا گیا تھا
خواب آلود نگاہوں سے یہ کہتا گزرا
میں حقیقت تھا جو تعبیر میں رکھا گیا تھا
جوان بیٹی سے باپ کا خطاب
مِری بیٹی مِری جاناں
تمہیں سب یاد تو ہو گا
بہت پہلے بہت پہلے
جوانی کا تھا جب عالم
مِرے بازو میں طاقت تھی
مِرے سینے میں ہمت تھی
اک تِرے غمگسار ہم بھی ہیں
تجھ پہ جاناں نثار ہم بھی ہیں
رات کی رات اور سحر کی سحر
"تم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں"
تم اگر روح رنگ و بُو ٹھہرے
یار! فخرِ بہار ہم بھی ہیں
حریمِ دل سے نکل آنکھ کے سراب میں آ
مِری طرح کبھی میدان اضطراب میں آ
پیمبروں کی زبانی کہی سنی ہم نے
وہ کہہ رہا تھا کہ میرے بھی انتخاب میں آ
سنا ہے آج عماری فلک سے اترے گی
مجھے بھی نیند گر آئے تو میرے خواب میں آ
برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی
تم سامنے آئے گر دل کی دھڑکن بھی ٹھہر ہی جائے گی
پردے میں رہوں آنکھیں میری بیتاب تو ہیں پر تاب نہیں
بے تابئ دل لمحاتی ہے حالت یہ سنبھالی جائے گی
آئینۂ دل شفاف تو ہو ہم کو بھی سنورنا لازم ہے
ہم کو بھی پتہ ہے ملنے پر چہرے کی بحالی جائے گی
ہماری تشنہ لبی اب سبو سے کھیلے گی
فغان دل رگ جان و گلو سے کھیلے گی
سنبھل کے رہنا کہ اس بار صیقل ابرو
کوئی بعید نہیں آبرو سے کھیلے گی
کرے گا سیل ہر اک لہر کو بلند اپنی
ہر ایک موج فقط آب جو سے کھیلے گی
شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی
حد ہوئی آپ کو خبر نہ ہوئی
آپ کہتے تھے پُر خطر جتنی
سخت اتنی بھی راہگزر نہ ہوئی
رہ گیا درد دل کے پہلو میں
یہ جو الفت تھی دردِ سر نہ ہوئی
اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی
مصلحت کوش تھی ہر بات شناسائی کی
زخم دل ہم نے سجائے تو ادھر بھی اس نے
ناز و انداز سے جاری ستم آرائی کی
جسم ترشا ہوا سانچے میں ڈھلا ہے جیسے
دستِ آزر نے قسم کھائی ہو صنّاعی کی
کب سے مانگ رہے ہیں تم سے
ساغر سے، مِینا سے، خُم سے
ہم بھی کچھ کچھ کھوئے ہوئے ہیں
آپ بھی لگتے ہیں گُم سُم سے
جاگیں گے بے جان سے جذبے
تیرے دہن کے حرفِ قُم سے