Showing posts with label عفیف سراج. Show all posts
Showing posts with label عفیف سراج. Show all posts

Thursday, 22 December 2022

رہی جبیں نہ رہا سنگ آستاں باقی

 رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی

جنوں کی آگ بُجھی رہ گیا دُھواں باقی

میں کس کو حالِ پریشاں سناؤں کون سنے

کہاں ہے شہر میں اب کوئی ہمزباں باقی

یہ ساعتیں ہیں غنیمت گزار لیں ہمراہ

نہ پھر زمین نہ ہو گا یہ آسماں باقی

Saturday, 12 November 2022

دھڑک گیا جو دل مرا تو اس گھڑی لگا کہ بس

 دھڑک گیا جو دل مِرا تو اس گھڑی لگا کہ بس

مِرے جنوں کا اک نظر میں وہ دیا صلہ کہ بس

میں پا بہ جولاں حد جسم و جان تک جب آ گیا

جنون خستہ پا کی پشت سے سنی صدا کہ بس

نہ. پوچھ جلوہ گاہ کی حکایتیں کرامتیں

نگاہ و دل کے درمیاں ہوا وہ معرکہ کہ بس

Saturday, 27 August 2022

رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی

 رہی جبیں نہ رہا سنگِ آستاں باقی

جنوں کی آگ بجھی رہ گیا دھواں باقی

میں کس کو حالِ پریشاں سناؤں کون سنے

کہاں ہے شہر میں اب کوئی ہمزباں باقی

یہ ساعتیں ہیں غنیمت گزار لیں ہمراہ

نہ پھر زمین نہ ہو گا، یہ آسماں باقی

Monday, 4 October 2021

مجھ کو اک عرصہ دلگیر میں رکھا گیا تھا

 مجھ کو اک عرصۂ دلگیر میں رکھا گیا تھا

زہر گویا کسی اکسیر میں رکھا گیا تھا

حاشیے متن سمجھ لے جو پڑھے قصۂ غم

انتظام ایسا بھی تحریر میں رکھا گیا تھا

خواب آلود نگاہوں سے یہ کہتا گزرا

میں حقیقت تھا جو تعبیر میں رکھا گیا تھا

Saturday, 19 June 2021

مری بیٹی مری جاناں تمہیں سب یاد تو ہو گا

 جوان بیٹی سے باپ کا خطاب


مِری بیٹی مِری جاناں

تمہیں سب یاد تو ہو گا

بہت پہلے بہت پہلے

جوانی کا تھا جب عالم

مِرے بازو میں طاقت تھی

مِرے سینے میں ہمت تھی

Thursday, 10 June 2021

اک ترے غمگسار ہم بھی ہیں

 اک تِرے غمگسار ہم بھی ہیں

تجھ پہ جاناں نثار ہم بھی ہیں

رات کی رات اور سحر کی سحر

"تم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں"

تم اگر روح رنگ و بُو ٹھہرے

یار! فخرِ بہار ہم بھی ہیں

Thursday, 20 May 2021

حریم دل سے نکل آنکھ کے سراب میں آ

 حریمِ دل سے نکل آنکھ کے سراب میں آ

مِری طرح کبھی میدان اضطراب میں آ

پیمبروں کی زبانی کہی سنی ہم نے

وہ کہہ رہا تھا کہ میرے بھی انتخاب میں آ

سنا ہے آج عماری فلک سے اترے گی

مجھے بھی نیند گر آئے تو میرے خواب میں آ

Saturday, 15 May 2021

برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی

 برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی

تم سامنے آئے گر دل کی دھڑکن بھی ٹھہر ہی جائے گی

پردے میں رہوں آنکھیں میری بیتاب تو ہیں پر تاب نہیں

بے تابئ دل لمحاتی ہے حالت یہ سنبھالی جائے گی

آئینۂ دل شفاف تو ہو ہم کو بھی سنورنا لازم ہے

ہم کو بھی پتہ ہے ملنے پر چہرے کی بحالی جائے گی

Friday, 14 May 2021

ہماری تشنہ لبی اب سبو سے کھیلے گی

 ہماری تشنہ لبی اب سبو سے کھیلے گی

فغان دل رگ جان و گلو سے کھیلے گی

سنبھل کے رہنا کہ اس بار صیقل ابرو

کوئی بعید نہیں آبرو سے کھیلے گی

کرے گا سیل ہر اک لہر کو بلند اپنی

ہر ایک موج فقط آب جو سے کھیلے گی

Wednesday, 12 May 2021

شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی

 شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی

حد ہوئی آپ کو خبر نہ ہوئی

آپ کہتے تھے پُر خطر جتنی

سخت اتنی بھی راہگزر نہ ہوئی

رہ گیا درد دل کے پہلو میں

یہ جو الفت تھی دردِ سر نہ ہوئی

Friday, 23 April 2021

اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

 اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

مصلحت کوش تھی ہر بات شناسائی کی

زخم دل ہم نے سجائے تو ادھر بھی اس نے

ناز و انداز سے جاری ستم آرائی کی

جسم ترشا ہوا سانچے میں ڈھلا ہے جیسے

دستِ‌ آزر نے قسم کھائی ہو صنّاعی کی

Monday, 18 January 2021

کب سے مانگ رہے ہیں تم سے

 کب سے مانگ رہے ہیں تم سے

ساغر سے، مِینا سے، خُم سے

ہم بھی کچھ کچھ کھوئے ہوئے ہیں

آپ بھی لگتے ہیں گُم سُم سے

جاگیں گے بے جان سے جذبے

تیرے دہن کے حرفِ قُم سے