Friday, 14 May 2021

ہماری تشنہ لبی اب سبو سے کھیلے گی

 ہماری تشنہ لبی اب سبو سے کھیلے گی

فغان دل رگ جان و گلو سے کھیلے گی

سنبھل کے رہنا کہ اس بار صیقل ابرو

کوئی بعید نہیں آبرو سے کھیلے گی

کرے گا سیل ہر اک لہر کو بلند اپنی

ہر ایک موج فقط آب جو سے کھیلے گی

جسارت رہِ پُر خار دیکھئے تو سہی

یہ کہہ رہی ہے مِری جستجو سے کھیلے گی

بہت شگفتہ و رنگین گفتگو ہے سراج

چمن میں بات تِری رنگ و بو سے کھیلے گی


عفیف سراج

No comments:

Post a Comment