یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں
دیار عشق کے حاکم فقیر ہوتے ہیں
ہر ایک دل میں تو یہ برچھیاں اترتی نہیں
کوئی کوئی تو نظر کے اسیر ہوتے ہیں
ہجوم بوالہوسی کے گھنے اندھیروں میں
کچھ ایسے غم بھی ہیں جو دستگیر ہوتے ہیں
ہر ایسے ویسے سے قفل قفس نہیں کھلتا
اس امتحاں کے لیے کچھ حقیر ہوتے ہیں
تمہارے شہر میں کس کو ہے جان دینے کا شوق
مگر وہاں بھی جو صاحب ضمیر ہوتے ہیں
عین تابش
No comments:
Post a Comment