Showing posts with label انیس فاروقی. Show all posts
Showing posts with label انیس فاروقی. Show all posts

Monday, 25 October 2021

اجنبی سا لگتا ہے

 کبھی کبھی

وہ مجھے

اجنبی سا لگتا ہے

لبوں سے لفظ

سنائی دیں

جھوٹ آنکھوں سے

Friday, 22 October 2021

ہجرتوں کے ہر سفر نے حشر یوں برپا کئے

 ہجرتوں کے ہر سفر نے حشر یوں برپا کئے

قربتوں میں فاصلے در فاصلے پیدا کئے

ہر قدم پر اس جہاں میں جِن کی خاطر دکھ سہے

اُڑ گئے پنچھی وہی سب بِن کوئی پروا کئے

کب پرندے لوٹ آئیں پھر نشیمن کی طرف

ہم اکیلے رات بھر بیٹھے رہے در وا کئے

Thursday, 21 October 2021

کیوں سہولت سے میں میسر تھا

 ہاں سہولت سے میں میسر تھا

ہاں، مِری قدر ان سے ہو نہ سکی

مجھ کو غیروں سے اب نہیں شکوہ

ہاں، یہ غلطی مِری ہی غلطی تھی

ہاں، میں باتوں میں ان کی آیا تھا

ہاں، بھروسہ خطا بنی میری

Saturday, 10 July 2021

ہر اک فتنے کے پیچھے تو یہی رنگریز شامل ہیں

 رنگریز


کسی مُلا نے مُفتی نے

کبھی رہبر نے وردی نے 

مدرسے کے نصابوں نے

کبھی جنت کے خوابوں نے

سبھی کچھ ہی بدل ڈالا

وہ جذبہ ہی کُچل ڈالا

Thursday, 18 March 2021

اس دشت وفا میں ترے آلام ہے کیسا

 اِس دشتِ وفا میں تِرے آلام ہے کیسا

مسند سرِ مقتل ہو تو آرام ہے کیسا؟

جب خود ہی محبت کے بھرم توڑ دئیے تھے

پھر اُن کی نگاہوں میں یہ پیغام ہے کیسا

رکھ کر سرِ نیزہ مِرا سَر پوچھ رہے ہیں

اِس شہرِ غریباں میں یہ ہنگام ہے کیسا