کبھی کبھی
وہ مجھے
اجنبی سا لگتا ہے
لبوں سے لفظ
سنائی دیں
جھوٹ آنکھوں سے
کبھی کبھی
وہ مجھے
اجنبی سا لگتا ہے
لبوں سے لفظ
سنائی دیں
جھوٹ آنکھوں سے
ہجرتوں کے ہر سفر نے حشر یوں برپا کئے
قربتوں میں فاصلے در فاصلے پیدا کئے
ہر قدم پر اس جہاں میں جِن کی خاطر دکھ سہے
اُڑ گئے پنچھی وہی سب بِن کوئی پروا کئے
کب پرندے لوٹ آئیں پھر نشیمن کی طرف
ہم اکیلے رات بھر بیٹھے رہے در وا کئے
ہاں سہولت سے میں میسر تھا
ہاں، مِری قدر ان سے ہو نہ سکی
مجھ کو غیروں سے اب نہیں شکوہ
ہاں، یہ غلطی مِری ہی غلطی تھی
ہاں، میں باتوں میں ان کی آیا تھا
ہاں، بھروسہ خطا بنی میری
رنگریز
کسی مُلا نے مُفتی نے
کبھی رہبر نے وردی نے
مدرسے کے نصابوں نے
کبھی جنت کے خوابوں نے
سبھی کچھ ہی بدل ڈالا
وہ جذبہ ہی کُچل ڈالا
اِس دشتِ وفا میں تِرے آلام ہے کیسا
مسند سرِ مقتل ہو تو آرام ہے کیسا؟
جب خود ہی محبت کے بھرم توڑ دئیے تھے
پھر اُن کی نگاہوں میں یہ پیغام ہے کیسا
رکھ کر سرِ نیزہ مِرا سَر پوچھ رہے ہیں
اِس شہرِ غریباں میں یہ ہنگام ہے کیسا