Showing posts with label کنول ضیائی. Show all posts
Showing posts with label کنول ضیائی. Show all posts

Saturday, 20 March 2021

روح اجداد کو جھنجھوڑ دیا بچوں نے

 روحِ اجداد کو جھنجھوڑ دیا بچوں نے

سارے حالات کا رُخ موڑ دیا بچوں نے

آخری ایک کھلونا تھا روایت کا وقار

باتوں باتوں میں جسے توڑ دیا بچوں نے

گھر کا ہر شخص نظر آتا ہے بت پتھر کا

جب سے رشتوں کو نیا موڑ دیا بچوں نے

Thursday, 18 March 2021

روز فلک سے نم برسیں گے

 روز فلک سے نم برسیں گے

پیار کے بادل کم برسیں گے

موت نے آنچل جب لہرایا

آنگن میں ماتم برسیں گے

قطرہ قطرہ خون کا بن کر

اس دھرتی پر ہم برسیں گے

کہاں تک بڑھ گئی ہے بات لکھنا

 کہاں تک بڑھ گئی ہے بات لکھنا

مِرے گاؤں کے سب حالات لکھنا

جواں بیٹوں کی لاشوں کے علاوہ

ملی ہے کون سی سوغات لکھنا

کوئی سوتا ہے یا سب جاگتے ہیں

وہاں کٹتی ہے کیسے رات لکھنا

Wednesday, 17 March 2021

پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے

 پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے

وہ شخص صاحبِ فن بھی ہے کامیاب بھی ہے

جو روپ آئی کو اچھا لگے وہ اپنا لیں

ہماری شخصیت کانٹا بھی ہے گلاب بھی ہے

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں

ہمارے خون میں گنگا بھی ہے چناب بھی ہے

Tuesday, 16 March 2021

زمانے کو لہو پینے کی لت ہے

 زمانے کو لہو پینے کی لت ہے

مگر پھر بھی یہاں سب خیریت ہے

ہماری شخصیت کیا شخصیت ہے

ہر اک تیور دکھاوے کی پرت ہے

ہمارا گھر بہت چھوٹا ہے لیکن

ہمارا گھر ہماری سلطنت ہے

Monday, 15 March 2021

بہت دنوں سے کھلا در تلاش کرتا ہوں

 بہت دنوں سے کھلا در تلاش کرتا ہوں

میں اپنے گھر میں کھڑا گھر تلاش کرتا ہوں

پلک پہ قطرۂ شبنم اٹھائے صدیوں سے

تِرے کرم کا سمندر تلاش کرتا ہوں

بدن بدن سے خلوص و وفا کی خوشبوئیں

میں سونگھ کر نہیں چھو کر تلاش کرتا ہوں