روحِ اجداد کو جھنجھوڑ دیا بچوں نے
سارے حالات کا رُخ موڑ دیا بچوں نے
آخری ایک کھلونا تھا روایت کا وقار
باتوں باتوں میں جسے توڑ دیا بچوں نے
گھر کا ہر شخص نظر آتا ہے بت پتھر کا
جب سے رشتوں کو نیا موڑ دیا بچوں نے
روحِ اجداد کو جھنجھوڑ دیا بچوں نے
سارے حالات کا رُخ موڑ دیا بچوں نے
آخری ایک کھلونا تھا روایت کا وقار
باتوں باتوں میں جسے توڑ دیا بچوں نے
گھر کا ہر شخص نظر آتا ہے بت پتھر کا
جب سے رشتوں کو نیا موڑ دیا بچوں نے
روز فلک سے نم برسیں گے
پیار کے بادل کم برسیں گے
موت نے آنچل جب لہرایا
آنگن میں ماتم برسیں گے
قطرہ قطرہ خون کا بن کر
اس دھرتی پر ہم برسیں گے
کہاں تک بڑھ گئی ہے بات لکھنا
مِرے گاؤں کے سب حالات لکھنا
جواں بیٹوں کی لاشوں کے علاوہ
ملی ہے کون سی سوغات لکھنا
کوئی سوتا ہے یا سب جاگتے ہیں
وہاں کٹتی ہے کیسے رات لکھنا
پرکھ فضا کی ہوا کا جسے حساب بھی ہے
وہ شخص صاحبِ فن بھی ہے کامیاب بھی ہے
جو روپ آئی کو اچھا لگے وہ اپنا لیں
ہماری شخصیت کانٹا بھی ہے گلاب بھی ہے
ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں
ہمارے خون میں گنگا بھی ہے چناب بھی ہے
زمانے کو لہو پینے کی لت ہے
مگر پھر بھی یہاں سب خیریت ہے
ہماری شخصیت کیا شخصیت ہے
ہر اک تیور دکھاوے کی پرت ہے
ہمارا گھر بہت چھوٹا ہے لیکن
ہمارا گھر ہماری سلطنت ہے
بہت دنوں سے کھلا در تلاش کرتا ہوں
میں اپنے گھر میں کھڑا گھر تلاش کرتا ہوں
پلک پہ قطرۂ شبنم اٹھائے صدیوں سے
تِرے کرم کا سمندر تلاش کرتا ہوں
بدن بدن سے خلوص و وفا کی خوشبوئیں
میں سونگھ کر نہیں چھو کر تلاش کرتا ہوں