سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
وقت
عجیب سی یہ بات ہے
عجب سا یہ خیال ہے
مگر یہ سوچنے لگو
تو اک اہم سوال ہے
کہ وقت ہی کہاں گیا؟
کہ عمر سب گزار دی
گھر
مجھے اُس جگہ کو
گھر کہنا ہے
جہاں کوئی کسی سے
کچھ نہ پوچھے
اور خود سے
اجازت لینی پڑے
ملاقات
یہ آنگن، ہمارا آنگن ہے
ہم ہی اس کے ہیں رکھوالے
نہ گھر والے، نہ دروازے
روکیں ہم کو آنے سے
جُدائی میں سکوں پایا
ٹُوٹا جب تو جُڑ پایا
ایک سوچ
ایک سوچ عقل سے پھسل گئی
مجھے یاد تھی کہ بدل گئی
میری سوچ تھی کہ وہ خواب تھا
میری زندگی کا حساب تھا
میری جستجو کے برعکس تھی
میری مشکلوں کا وہ عکس تھی