Showing posts with label یوسف قریشی. Show all posts
Showing posts with label یوسف قریشی. Show all posts

Wednesday, 22 July 2026

سب بدلتا ہے بس انسان نہیں بدلتا

 سب بدلتا ہے

بس انسان نہیں بدلتا

لوگ بدلتے ہیں

آنکھیں بدلتی ہیں

اُمید بدلتی ہے

رُخ بدلتے ہیں

Monday, 21 April 2025

تو وقت یہ کہاں گیا کہ وقت ہی نہیں ملا

 وقت


عجیب سی یہ بات ہے

عجب سا یہ خیال ہے

مگر یہ سوچنے لگو

تو اک اہم سوال ہے

کہ وقت ہی کہاں گیا؟

کہ عمر سب گزار دی

Sunday, 7 July 2024

مجھے اس جگہ کو گھر کہنا ہے

 گھر


مجھے اُس جگہ کو

گھر کہنا ہے

جہاں کوئی کسی سے

کچھ نہ پوچھے

اور خود سے 

اجازت لینی پڑے

Saturday, 29 June 2024

گھر اپنے ہی آنا ہے گھر اپنے ہی آتے ہیں

 ملاقات


یہ آنگن، ہمارا آنگن ہے

ہم ہی اس کے ہیں رکھوالے

نہ گھر والے، نہ دروازے

روکیں ہم کو آنے سے

جُدائی میں سکوں پایا

ٹُوٹا جب تو جُڑ پایا

Friday, 28 June 2024

ایک سوچ عقل سے پھسل گئی

 ایک سوچ


ایک سوچ عقل سے پھسل گئی 

مجھے یاد تھی کہ بدل گئی 

میری سوچ تھی کہ وہ خواب تھا

میری زندگی کا حساب تھا

میری جستجو کے برعکس تھی

 میری مشکلوں کا وہ عکس تھی