عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہے مختصر حیات عبادت کے واسطے
خلد بریں میں انِ کی قرابت کے واسطے
پایا ہے ہم نے جسم عبادت کے واسطے
ذکر نبیؐ ہے اس میں حرارت کے واسطے
لمحے میں پورے چاند کو، دو لخت کر دیا
کافی سے تھا زیادہ، شہادت کے واسطے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہے مختصر حیات عبادت کے واسطے
خلد بریں میں انِ کی قرابت کے واسطے
پایا ہے ہم نے جسم عبادت کے واسطے
ذکر نبیؐ ہے اس میں حرارت کے واسطے
لمحے میں پورے چاند کو، دو لخت کر دیا
کافی سے تھا زیادہ، شہادت کے واسطے
گر، دل میں تجھے ایسے سمایا نہیں ہوتا
یوں تجھ سے بچھڑ جانے کا دھڑکا نہیں ہوتا
تجھ جیسا کوئی دوست ہمارا نہیں ہوتا
آئے کاش! تجھے ہم نے پکارا نہیں ہوتا
ہم ہجر کی راتوں میں نہ اس طرح تڑپتے
احسان جو ہم پر یہ تمہارا نہیں ہوتا
میری ادیبہ
کتنے سارے رشتے تم سے
تم ہی سہیلی اور بہن بھی
تم نے میری ویراں زیست میں
پھول کھلائے اپنی ہنسی کے
میرے دکھ کے قطروں کو
پتھر
آنکھ بھی پتھر سانس بھی پتھر
پتھر سی ہے دل کی دھڑکن
سوز صدائیں ساز بھی پتھر
اور میری آواز بھی پتھر
لفظ، قلم، قرطاس بھی پتھر
آہ بھی پتھر، واہ بھی پتھر
وہ پہلے پہل جیسی عنایت نہیں رہی
لگتا ہے تم کو ہم سے محبت نہیں رہی
لفظوں میں چاشنی و حرارت نہیں رہی
وہ گنگناہٹوں کی لطافت نہیں رہی
لہجے میں چاشنی و حرارت نہیں رہی
وہ گنگناہٹوں کی لطافت نہیں رہی
دن کو راہوں میں رات کو گھر میں
چاک دامن کھڑا ہے سناٹا
زندگی کے اداس منظر میں
رنگ بھرنے لگا ہے سناٹا
کاٹ کر آہٹوں کی چرب زباں
ہر طرف گونجتا ہے سناٹا
زندگی شورشوں سے عاری ہے
موت کا سا سکوت طاری ہے
ساری دنیا سے بدگماں ہو کر
زیست ملک عدم سدھاری ہے
کس لیے دل سکوں نہیں پاتا
کس لیے اتنی بے قراری ہے
پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا
مجھ کو رکھا نہیں دھیان میں کیا
پہلے پردے پڑے تھے آنکھوں پر
قفل اب پڑ گئے زبان میں کیا
فصل میری تو جل کے خاک ہوئی
جان ہی لو گے اب لگان میں کیا