Showing posts with label گلزیب زیبا. Show all posts
Showing posts with label گلزیب زیبا. Show all posts

Friday, 21 April 2023

ہے مختصر حیات عبادت کے واسطے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہے مختصر حیات عبادت کے واسطے

خلد بریں میں انِ کی قرابت کے واسطے

پایا ہے ہم نے جسم عبادت کے واسطے

ذکر نبیؐ ہے اس میں حرارت کے واسطے

لمحے میں پورے چاند کو، دو لخت کر دیا

کافی سے تھا زیادہ، شہادت کے واسطے

Tuesday, 6 December 2022

گر دل میں تجھے ایسے سمایا نہیں ہوتا

 گر، دل میں تجھے ایسے سمایا نہیں ہوتا

یوں تجھ سے بچھڑ جانے کا دھڑکا نہیں ہوتا

تجھ جیسا کوئی دوست ہمارا نہیں ہوتا

آئے کاش! تجھے ہم نے پکارا نہیں ہوتا

ہم ہجر کی راتوں میں نہ اس طرح تڑپتے

احسان جو ہم پر یہ تمہارا نہیں ہوتا

Thursday, 15 April 2021

کتنے سارے رشتے تم سے تم ہی سہیلی اور بہن بھی

 میری ادیبہ


کتنے سارے رشتے تم سے

تم ہی سہیلی اور بہن بھی

تم نے میری ویراں زیست میں

پھول کھلائے اپنی ہنسی کے

میرے دکھ کے قطروں کو

Thursday, 10 December 2020

آنکھ بھی پتھر سانس بھی پتھر

 پتھر


آنکھ بھی پتھر سانس بھی پتھر

پتھر سی ہے دل کی دھڑکن

سوز صدائیں ساز بھی پتھر

اور میری آواز بھی پتھر

لفظ، قلم، قرطاس بھی پتھر

آہ بھی پتھر، واہ بھی پتھر

وہ پہلے پہل جیسی عنایت نہیں رہی

 وہ پہلے پہل جیسی عنایت نہیں رہی 

لگتا ہے تم کو ہم سے محبت نہیں رہی

لفظوں میں چاشنی و حرارت نہیں رہی

وہ گنگناہٹوں کی لطافت نہیں رہی

لہجے میں چاشنی و حرارت نہیں رہی

وہ گنگناہٹوں کی لطافت نہیں رہی

Wednesday, 9 December 2020

چاک دامن کھڑا ہے سناٹا

 دن کو راہوں میں رات کو گھر میں

چاک دامن کھڑا ہے سناٹا

زندگی کے اداس منظر میں

رنگ بھرنے لگا ہے سناٹا

کاٹ کر آہٹوں کی چرب زباں

ہر طرف گونجتا ہے سناٹا

زندگی شورشوں سے عاری ہے

 زندگی شورشوں سے عاری ہے

موت کا سا سکوت طاری ہے

ساری دنیا سے بدگماں ہو کر

زیست ملک عدم سدھاری ہے

کس لیے دل سکوں نہیں پاتا

کس لیے اتنی بے قراری ہے

Tuesday, 8 December 2020

پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا

 پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا

مجھ کو رکھا نہیں دھیان میں کیا

پہلے پردے پڑے تھے آنکھوں پر

قفل اب پڑ گئے زبان میں کیا

فصل میری تو جل کے خاک ہوئی

جان ہی لو گے اب لگان میں کیا