Tuesday, 8 December 2020

پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا

 پڑ گئے دل کے امتحان میں کیا

مجھ کو رکھا نہیں دھیان میں کیا

پہلے پردے پڑے تھے آنکھوں پر

قفل اب پڑ گئے زبان میں کیا

فصل میری تو جل کے خاک ہوئی

جان ہی لو گے اب لگان میں کیا

پہلے ہم تھے ترے حواسوں پر

اب کوئی اور ہے دھیان میں کیا

کیا کہیں سے وفا خریدو گے؟

جنس بکتی ہے یہ دکان میں کیا

جس کے آگے کھڑےہو گم صم سے

کوئی رہتا تھا اس مکان میں کیا

کوئی سمجھائے اس چکوری کو

بے معانی سی اس اڑان میں کیا

کیوں مرا دم نہیں نکلتا ہے؟

تم ہی اٹکے ہو میری جان میں کیا

پان دیتے ہوئے وہ لرزاں ہیں

زہر رکھا ہے خاصدان میں کیا

کیوں جفاؤں سے بھر لیا خود کو

ایک ہی چیز تھی دکان میں کیا

لوگ تو دیکھتے ہیں تصویریں

اب تمہاری کہوں میں شان میں کیا

ساتھ رہ کر نہیں وہ پاس مرے

کوئی آفت ہے درمیان میں کیا

ایک رکھتے ہوئے، نظر مجھ پر

دو کو رکھو گے اک میان میں کیا

پورے صحرا میں بچھ گیا ماتم

ہم کہ ٹھہرے ترےمکان میں کیا

میری چڑیا کے بچےغائب ہیں

سانپ آیا کوئی مکان میں کیا

رنگ جھڑنے لگا وفاؤں کا

فاصلے آئے درمیان میں کیا

داستاں میں وہ ہم کو بھول گئے

ہم نہیں آئے درمیان میں کیا

خود تو محفوظ رہ نہیں پائے

مجھ کو رکھو گے تم امان میں کیا

جان لیوا ہے دل کی خاموشی

قتل برپا تھا اس مکان میں کیا

میرے آتے، وہ چل دئیے آٹھ کر

کچھ غلط ہو گیا ہےشان میں کیا

ہچکیاں جان میری لے لیں گی

لا رہے ہو مجھے دھیان میں کیا

آنکھ کی کھڑکیوں میں وحشت ہے

بھوت بستے ہیں اس مکان میں کیا

مجھ کو خاموش ایسے تکتے ہو

تیر باقی نہیں کمان میں کیا؟

ایسے سر کیوں جھکائے بیٹھے ہو

کوئی کچھ  کہہ گیا ہے کان میں کیا

ذکر گلزیب کیوں نہیں زیبا

ہے یہ ممنوع کسی زبان میں کیا


گلزیب زیبا

No comments:

Post a Comment