Wednesday, 9 December 2020

زندگی شورشوں سے عاری ہے

 زندگی شورشوں سے عاری ہے

موت کا سا سکوت طاری ہے

ساری دنیا سے بدگماں ہو کر

زیست ملک عدم سدھاری ہے

کس لیے دل سکوں نہیں پاتا

کس لیے اتنی بے قراری ہے

ہر طرف ہے دبیز سناٹا

سانس بھی جیسے ضربِ کاری ہے

مدتیں تجھ کو کھو کے گزریں مگر

وہ لمحہ زندگی پہ بھاری ہے

زندگی بھی عجیب بازی تھی

جیت کر بھی جو ہم نے ہاری ہے

تم ثبوتِ وفا تو دے ہی چکے

اب ٹھہر جاؤ میری باری ہے

ضبط غنچوں کا دیکھنے کے لیے

آگ میں فصلِ گل اتاری ہے


گلزیب زیبا

No comments:

Post a Comment