زندگی شورشوں سے عاری ہے
موت کا سا سکوت طاری ہے
ساری دنیا سے بدگماں ہو کر
زیست ملک عدم سدھاری ہے
کس لیے دل سکوں نہیں پاتا
کس لیے اتنی بے قراری ہے
ہر طرف ہے دبیز سناٹا
سانس بھی جیسے ضربِ کاری ہے
مدتیں تجھ کو کھو کے گزریں مگر
وہ لمحہ زندگی پہ بھاری ہے
زندگی بھی عجیب بازی تھی
جیت کر بھی جو ہم نے ہاری ہے
تم ثبوتِ وفا تو دے ہی چکے
اب ٹھہر جاؤ میری باری ہے
ضبط غنچوں کا دیکھنے کے لیے
آگ میں فصلِ گل اتاری ہے
گلزیب زیبا
No comments:
Post a Comment