Showing posts with label اوم پرکاش لاغر. Show all posts
Showing posts with label اوم پرکاش لاغر. Show all posts

Saturday, 4 July 2026

اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے

 اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے

غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے

کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے

اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے

کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو

سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے

Thursday, 26 February 2026

زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

 زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی

کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں

جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی

جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی

بات پوری مری خامشی کہہ گئی

Saturday, 8 November 2025

حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے

 حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے

زمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہے

تعلق رہنما کا مفلس و نادار سے کیسا

انہیں ووٹوں کی خاطر وقت پر پھسلایا جاتا ہے

کہیں میری شرافت کو نہ کمزوری سمجھ بیٹھے

کبھی دشمن کو بھی اس واسطے دھمکایا جاتا ہے

Friday, 7 November 2025

جہاد زندگی میں پر خطر جو کود جاتے ہیں

 جہادِ زندگی میں پُر خطر جو کُود جاتے ہیں

انہیں کو حادثاتِ زندگانی راس آتے ہیں💢

درندے جن کی خونخواری کے آگے سر جھکاتے ہیں

اسی دنیا میں کچھ انسان ایسے پائے جاتے ہیں

دلِ گُل چیں پہ کالے ناگ اکثر لوٹ جاتے ہیں

جو دم بھر کے لیے غنچے چمن میں مسکراتے ہیں