اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی
موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی
کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں
جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی
جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی
بات پوری مری خامشی کہہ گئی
حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے
زمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہے
تعلق رہنما کا مفلس و نادار سے کیسا
انہیں ووٹوں کی خاطر وقت پر پھسلایا جاتا ہے
کہیں میری شرافت کو نہ کمزوری سمجھ بیٹھے
کبھی دشمن کو بھی اس واسطے دھمکایا جاتا ہے
جہادِ زندگی میں پُر خطر جو کُود جاتے ہیں
انہیں کو حادثاتِ زندگانی راس آتے ہیں💢
درندے جن کی خونخواری کے آگے سر جھکاتے ہیں
اسی دنیا میں کچھ انسان ایسے پائے جاتے ہیں
دلِ گُل چیں پہ کالے ناگ اکثر لوٹ جاتے ہیں
جو دم بھر کے لیے غنچے چمن میں مسکراتے ہیں