Showing posts with label ریاض خیر آبادی. Show all posts
Showing posts with label ریاض خیر آبادی. Show all posts

Tuesday, 22 February 2022

اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا

 اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا

دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا

کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا

آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا

کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا

ہوتا تو بہت ہے، مگر اتنا نہیں ہوتا

Sunday, 18 October 2020

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

 ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

کہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا

ستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں سے

تجھے اے جان! اندازِ جفا اب تک نہیں آیا

دم آخر تھے بالیں پہ جو آنے کو وہ آئے بھی

تو ہنس کر کہہ گئے وقت دعا اب تک نہیں آیا

Monday, 5 October 2020

ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد

 ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد

آج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعد

خم کدوں میں کچھ نہ ہو گا ایک پیمانے کے بعد

رہ نہیں سکتی کبھی مے‌ لب تک آ جانے کے بعد

میں ہوں ساقی ہے شب خلوت ہے دور جام ہے

بوسہ پر بوسہ ہے، پیمانہ ہے پیمانے کے بعد

Wednesday, 28 February 2018

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا 
اے میں قربان، وفا وعدۂ فردا ہو گا
حشر کے روز بھی کیا خونِ تمنا ہو گا 
سامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہو گا
ہم نہیں جانتے ہیں حشر میں کیا کیا ہو گا 
یہ خوشی ہے کہ وفا وعدۂ فردا ہو گا

کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل

کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل 
ہوا کیا، لُٹ گیا دل، مِٹ گیا دل
یہ کہہ کر دے دیا مجھ کو مِرا دل 
ہمیں کوسے گا، دے گا بد دعا دل
چمن میں جو کھلا گل میں یہ سمجھا 
کہ ہے میرا یہ مرجھایا ہوا دل

Monday, 18 September 2017

مے نور خدا ہوتی دل عرش خدا ہوتا

مۓ نورِ خدا ہوتی دل عرشِ خدا ہوتا
تھوڑی سی جو پی لیتے کیا جانیے کیا ہوتا
ہم جا کے جو بھولے سے مسجد میں اذاں کہتے
بے دست برہمن بھی ناقوس بجا ہوتا
دن ہے یہ قیامت کا ہم ہجر کے مارے ہیں
افسانہ ہمارا بھی تھوڑا سا سنا ہوتا

ساغر چڑھائے پھول کے ہر شاخسار نے

ساغر چڑھائے پھول کے ہر شاخسار نے
دریا بہا دیئے خُمِ ابر بہار نے
روشن کئے چراغِ لحد لالہ زار نے
اس مرتبہ تو آگ لگا دی بہار نے
اودی گھٹائیں چھائی ہیں اے مۓ کشو چلو
پریوں کے تخت روک لیے سبزہ زار نے

ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات

ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات
جاگیں تمام رات،۔ جگائیں تمام رات
زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے
مۓ کش اسے شراب پلائیں تمام رات
تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ
برسیں کہاں یہ کالی گھٹائیں تمام رات

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا
اے میں قربان وفا وعدۂ فردا ہو گا
حشر کے روز بھی کیا خون تمنا ہو گا
سامنے آئیں گے یا آج بھی پردا ہو گا
تُو بتا دے ہمیں صدقے ترے اے شانِ کرم
ہم گنہ گار ہیں کیا حشر ہمارا ہو گا

Sunday, 12 June 2016

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا
کہ بزمِ مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا
ستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں میں
تجھے اے جان! اندازِ جفا اب تک نہیں آیا
گیا تھا کہہ کے یہ قاصد کہ الٹے پاؤں آتا ہوں
کہاں کم بخت جا کر مر رہا، اب تک نہیں آیا

کل مرقعے ہیں ترے چاک گریبانوں کے

کُل مرقعے ہیں تِرے چاکِ گریبانوں کے
شکل معشوق کی، انداز ہیں دیوانوں کے
کعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی
مے پرستو! یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے
جامِ مے توبہ شکن، توبہ مِری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

Wednesday, 4 November 2015

چونکے ہیں حشر میں ہم اہل حرم سے پہلے

چونکے ہیں حشر میں ہم اہلِ حرم سے پہلے
شیخ فردوس میں کیا جائے گا ہم سے پہلے
جس کسی بزم میں دورِ مۓ و مینا دیکھا
ہم سیہ مست جھکے ابرِ کرم سے پہلے
محفلِ مے میں ہیں زاہد کے فرشتے بھی شریک
یہ تکلف تو نہ تھے بزم میں ہم سے پہلے

اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ

اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ
ہر گل ہے جہاں بلبل، ہر شمع ہے پروانہ
چھوٹا سا مِرا دل ہے، ٹوٹا سا مِرا دل ہے
صورت میں تو پیمانہ، وسعت میں ہے میخانہ
بے گانہ یگانہ ہے، دل آئینہ خانہ ہے
کعبے کا یہ کعبہ ہے، بتخانے کا بت خانہ

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں
منہ بناتا ہے برا کیوں وقتِ وعظ
آج واعظ تُو نے پی اچھی نہیں
بُت کدے سے مۓ کدہ اچھا مِرا
بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں

پھوٹ سی پڑی رات کو میخواروں میں

پھوٹ سی پڑی رات کو مے خواروں میں
محتسب خوب چلی، خوب چھنی یاروں میں
دل کی ہے قدر تو کچھ حسن کے سرکاروں میں
یہ وہ سودا نہیں بک جائے جو بازاروں میں
تیرے دامن سے بندھی ہے مِری امید اے چرخ
میری قسمت کا ستارہ ہے تِرے تاروں میں

یہ مۓ تلخ ترے منہ سے لگی ہے کہ نہیں

یہ مے تلخ تِرے منہ سے لگی ہے کہ نہیں
سچ بتا دے ارے زاہد! کبھی پی ہے کہ نہیں
دیکھ کر شوخ حسینوں کو بتا اے ناصح
گدگدی دل میں کبھی تیرے اٹھی ہے کہ نہیں
آتشِ گُل کی لپٹ کیوں نہ قفس تک آئے
ہر طرف آگ گلستاں میں لگی ہے کہ نہیں

صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات

صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات
بات کی بات تو ہے بیٹھ بھی لو بات کی بات
عرش پر رہتے ہیں کیا کعبے کے رہنے والے
کوئی سنتا ہی نہیں اہلِ خرابات کی بات
یہ کوئی بات ہے خُم ساتھ لیے واعظ آئے
اور پھر میں نہ سنو قبلۂ حاجات کی بات

Friday, 11 September 2015

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا
کہ بزمِ مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا
ستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں میں
تجھے اے جان! اندازِ جفا اب تک نہیں آیا
گیا تھا کہہ کے یہ قاصد کہ الٹے پاؤں آتا ہوں
کہاں کم بخت جا کر مر رہا، اب تک نہیں آیا

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیرِ مغاں رکھ دی
پرانی دوستی بھی طاق پر اے مہرباں! رکھ دی
خدا کے ہاتھ ہے بِکنا نہ بِکنا مئے کا، اے ساقی
برابر مسجدِ جامع کے ہم نے اب دکاں رکھ دی
چمن کا لطف آتا ہے مجھے صیاد کے صدقے
قفس میں لا کے اس نے آج شاخِ آشیاں رکھ دی

مئے رہے مینا رہے گردش میں‌ پیمانہ رہے

مے رہے، مِینا رہے، گردش میں‌ پیمانہ رہے
میرے ساقی تُو رہے، آباد مے خانہ رہے
حشر بھی تو ہو چکا، رُخ سے نہیں‌ ہٹتی نقاب
حد بھی آخر کچھ ہے کب تک کوئی دیوانہ رہے
رات کو جا بیٹھتے ہیں‌ روز ہم مجنوں‌ کے پاس
پہلے اَن بن رہ چکی ہے، اب تو یارانہ رہے