اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا
دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا
کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا
آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا
کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا
ہوتا تو بہت ہے، مگر اتنا نہیں ہوتا
اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا
دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا
کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا
آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا
کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا
ہوتا تو بہت ہے، مگر اتنا نہیں ہوتا
ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا
کہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا
ستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں سے
تجھے اے جان! اندازِ جفا اب تک نہیں آیا
دم آخر تھے بالیں پہ جو آنے کو وہ آئے بھی
تو ہنس کر کہہ گئے وقت دعا اب تک نہیں آیا
ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد
آج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعد
خم کدوں میں کچھ نہ ہو گا ایک پیمانے کے بعد
رہ نہیں سکتی کبھی مے لب تک آ جانے کے بعد
میں ہوں ساقی ہے شب خلوت ہے دور جام ہے
بوسہ پر بوسہ ہے، پیمانہ ہے پیمانے کے بعد