Showing posts with label باسط راجہ. Show all posts
Showing posts with label باسط راجہ. Show all posts

Tuesday, 30 June 2026

ہو کے عالم میں بھی اک شور سنائی دے گا

 ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا

جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا

حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر

ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا

ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے

اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا

Tuesday, 13 August 2024

ابو کے نام میرے تنہا خدا

 ابو کے نام


میرے تنہا خدا

میں نے پچیس برس اس کے سائے کے بن

اس کے بن

ایسے تنہا گزارے کہ جیسے کسی دشت میں

میل ہا میل تک

کوئی پانی نہ ہو اور مسافر بھی واقف ہو اس سے

Monday, 20 May 2024

کوئی افسانۂ زندان سناتا ہے مجھے

 کوئی افسانۂ زندان سناتا ہے مجھے

اور جینے کی تدابیر بتاتا ہے مجھے

ایک ہی دکھ ہے کہ دیوار سے لگ کر کوئی

روئے جاتا ہے مجھے، گھورتا جاتا ہے مجھے

ایک سایہ ہے مِرا، ڈل کے کنارے بیٹھا

اور ہر روز وہ اُس پار بُلاتا ہے مجھے

Sunday, 24 October 2021

اک شام کی اداسی کا غم آسماں کا دکھ

 اک شام کی اُداسی کا غم، آسماں کا دُکھ

پھر نیند لے اُڑا ہے وہ پچھلی خزاں کا دکھ

مُدت سے کھوج میں ہوں کبھی تو پتا چلے

مجھ کو کہاں ملا تھا یہ سارے جہاں کا دکھ

سالار کھو گیا ہے مِری فوج کا کہیں

تم کو خبر کہاں ہے مِرے کارواں کا دکھ