ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا
جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا
حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر
ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا
ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے
اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا
ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا
جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا
حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر
ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا
ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے
اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا
ابو کے نام
میرے تنہا خدا
میں نے پچیس برس اس کے سائے کے بن
اس کے بن
ایسے تنہا گزارے کہ جیسے کسی دشت میں
میل ہا میل تک
کوئی پانی نہ ہو اور مسافر بھی واقف ہو اس سے
کوئی افسانۂ زندان سناتا ہے مجھے
اور جینے کی تدابیر بتاتا ہے مجھے
ایک ہی دکھ ہے کہ دیوار سے لگ کر کوئی
روئے جاتا ہے مجھے، گھورتا جاتا ہے مجھے
ایک سایہ ہے مِرا، ڈل کے کنارے بیٹھا
اور ہر روز وہ اُس پار بُلاتا ہے مجھے
اک شام کی اُداسی کا غم، آسماں کا دُکھ
پھر نیند لے اُڑا ہے وہ پچھلی خزاں کا دکھ
مُدت سے کھوج میں ہوں کبھی تو پتا چلے
مجھ کو کہاں ملا تھا یہ سارے جہاں کا دکھ
سالار کھو گیا ہے مِری فوج کا کہیں
تم کو خبر کہاں ہے مِرے کارواں کا دکھ