سلامتی کونسل
پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے
میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس
جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں
جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس
جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل
بزم آرا و سخن گستر و فرخندہ لباس
سلامتی کونسل
پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے
میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس
جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں
جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس
جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل
بزم آرا و سخن گستر و فرخندہ لباس
اماں مانگو نہ ان سے جاں فگاراں، ہم نہ کہتے تھے
غنیمِ شہر ہیں چابک سواراں، ہم نہ کہتے تھے
خِزاں نے تو فقط ملبوس چِھینے تھے درختوں سے
صلیبیں بھی تراشے گی بہاراں ہم نہ کہتے تھے
ترس جائے گی ہم سے بے نواؤں کو تِری گلیاں
ہمارے بعد اے شہرِ نگاراں! ہم نہ کہتے تھے
یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے
یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے
پُورے ہُوئے اِک عمر کے ارمان ہمارے
ہم وہ جو کڑی دھوپ میں جسموں کو جلائیں
ہم وہ ہیں کہ صحراؤں کو گلزار بنائیں
ہم اپنا لہو خاک کے تودوں کو پلائیں
اس پر بھی گھروندے رہے ویران ہمارے
ملی ترانہ
اے مِری ارضِ وطن
اے مِری ارضِ وطن، پھر تِری دہلیز پہ میں
یوں نِگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے
آنکھ بے اشک ہے برسے ہوئے بادل کی طرح
ذہن بے رنگ ہے اجڑا ہوا موسم جیسے
سانس لیتے ہوئے اس طرح لرز جاتا ہوں
اپنے ہی ظلم سے کانپ اٹھتا ہے ظالم جیسے
اے شعاعِ سحرِ تازہ نئے سال کی ضَو
میرے سینے میں بھڑکتی ہے ابھی درد کی لَو
میری آنکھوں میں شکستہ ہیں ابھی رات کے خواب
میرے دل پر ہے ابھی شعلۂ غم کا پرتَو
جا بجا زخم تمنا کے مِری خاک میں ہیں
کیا ابھی اور بھی ناوک کفِ افلاک میں ہیں
تو بہتر ہے یہی
یہ تِری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن
کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں
پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت کو
بے خدا حافظ کہے چل دیں، جھکا کر گردنیں
آؤ اس دُکھ کو پکاریں جس کی شدت نے ہمیں
اس قدر اک دوسرے کے غم سے وابستہ کیا
ترس رہا ہوں مگر تُو نظر نہ آ مجھ کو
کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو
وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر
وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو
چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت
پکار اب تو مِرے دیر آشنا مجھ کو
کسی کی بزم میں ہم اس خیال سے بھی گئے
کہ وہ نہ سمجھے کہ ہم عرضِ حال سے بھی گئے
ہمی تو تھے کبھی معیار دوسروں کی لیے
ہمی تو ہیں کہ خود اپنی مثال سے بھی گئے
سبک خرامیٔ اغیار کی نہ کر تقلید
کہ اس جنوں میں کئی اپنی چال سے بھی گئے
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
تمہاری پوروں کا لمس ابھی تک
مِری کفِ دست پر ہے
اور میں یہ سوچتا ہوں
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
وہ کہہ گئے تھے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ
اے مرے سربريدہ، بدن دريدہ
سدا تِرا نام برگزيدہ
ميں کربلا کے لہو لہو دشت ميں تجھے
دشمنوں کے نرغے ميں، تيغ در دست ديکھتا ہوں
ميں ديکھتا ہوں
عید کارڈ
تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا
مرمر کر یہ زہر پیا ہے
چپ رہنا آسان نہیں تھا
برسوں دل کا خون کیا ہے
جو کچھ گزری جیسی گزری
تھکا گیا ہے مسلسل سفر اداسی کا
اور اب بھی ہے میرے شانے پہ سر اداسی کا
وہ کون کیمیا گر تھا کہ جو بکھیر گیا
تیرے گلاب سے چہرے پہ زر اداسی کا
میرے وجود کے خلوت کدے میں کوئی نہ تھا
جو رکھ گیا ہے دِیا طاق پر اداسی کا
کل شب تھا عجب دید کا منظر میرے آگے
دنیا تھی نہ ہونے کے برابر میرے آگے
جیسے متلاطم ہو سمندر میرے اندر
جیسے ہو کوئی ماہِ منور میرے آگے
اس وقت نہ تھی آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت
اک شہرِ طلسمات تھا یکسر میرے آگے
اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
جن میں وفورِ رنج سے
کچھ دیر کو تیرے لیے
آنسو اگر لہرا گئے
یہ چند لمحوں کی چمک
جو تجھ کو پاگل کر گئی
کتاب دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا
وہ چاہتوں کا مکمل حساب رکھتا تھا
فریب دیتا رہا دوستی کے پردوں میں
وہ شخص چہرے پے کتنے نقاب رکھتا تھا
آج اس کے ہاتھوں میں پتھر دکھائی دیتا ہے
جو اپنے ہاتھ میں ہر دم گلاب رکھتا تھا
سائے کی طرح نہ خود سے رم کر
دیوار کو اپنا ہم قدم کر
اپنے ہی لیے بہا نہ دریا
اوروں کے لیے بھی آنکھ نم کر
تکمیل طلب نہیں ہے منزل
طے راہِ وفا قدم قدم کر
اب نہ فرصت ہے نہ احساس ہے غم سے اپنے
ورنہ ہم روز ہی ملتے تھے صنم سے اپنے
دل نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں
لاکھ گمراہ ہوئے نقشِ قدم سے اپنے
جی چکے جو ہم یہی شوق کی رسوائی ہے
تم سے بیگانے ہوئے جاتے ہیں ہم سے اپنے
وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے
جہاں تلک تِرے قد کی اُٹھان جاتی ہے
یہ عہدِ سنگ زنی ہے سو چپ ہیں آئینہ گر
کہ لب کشا ہوں تو سمجھو دکان جاتی ہے
یہ مہربان مشیّت بھی ایک ماں کی طرح
میں ضد کروں تو مِری بات مان جاتی ہے
آئے تِری محفل میں تو بے تاب بہت تھے
جو اہلِ وفا، واقفِ آداب بہت تھے
اس شہرِ محبت میں عجب کال پڑا ہے
ہم جیسے سبک لوگ بھی نایاب بہت تھے
کچھ دل ہی نہ مانا کہ سبک سر ہوں وگرنہ
آسودگئ جاں کے تو اسباب بہت تھے
کیسی طلب اور کیا اندازے، مشکل ہے تقدیر بنے
دل پر جس کا ہاتھ بھی رکھیو، آخر وہ شمشیر بنے
غم کے رشتے بھی نازک تھے تم آئے اور ٹوٹ گئے
دل کا وحشی اب کیا سنبھلے، اب کیا شے زنجیر بنے
اپنا لہو، تیری رعنائی، تاریکی اس دنیا کی
میں نے کیا کیا رنگ چنے ہیں دیکھوں کیا تصویر بنے