Showing posts with label احمد فراز. Show all posts
Showing posts with label احمد فراز. Show all posts

Monday, 20 April 2026

پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے

 سلامتی کونسل


پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے​

میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس​

جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں​

جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس​

جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل​

بزم آرا و سخن گستر و فرخندہ لباس

Wednesday, 16 August 2023

اماں مانگو نہ ان سے جاں فگاراں ہم نہ کہتے تھے

 اماں مانگو نہ ان سے جاں فگاراں، ہم نہ کہتے تھے

غنیمِ شہر ہیں چابک سواراں، ہم نہ کہتے تھے

خِزاں نے تو فقط ملبوس چِھینے تھے درختوں سے

صلیبیں بھی تراشے گی بہاراں ہم نہ کہتے تھے

ترس جائے گی ہم سے بے نواؤں کو تِری گلیاں

ہمارے بعد اے شہرِ نگاراں! ہم نہ کہتے تھے

Sunday, 13 August 2023

یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے

 یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے


یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے

پُورے ہُوئے اِک عمر کے ارمان ہمارے


ہم وہ جو کڑی دھوپ میں جسموں کو جلائیں

ہم وہ ہیں کہ صحراؤں کو گلزار بنائیں

ہم اپنا لہو خاک کے تودوں کو پلائیں

اس پر بھی گھروندے رہے ویران ہمارے

Thursday, 23 March 2023

اے مری ارض وطن پھر تری دہلیز پہ میں

ملی ترانہ

 اے مِری ارضِ وطن


اے مِری ارضِ وطن، پھر تِری دہلیز پہ میں​

یوں نِگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے​

آنکھ بے اشک ہے برسے ہوئے بادل کی طرح​

ذہن بے رنگ ہے اجڑا ہوا موسم جیسے​

سانس لیتے ہوئے اس طرح لرز جاتا ہوں​

اپنے ہی ظلم سے کانپ اٹھتا ہے ظالم جیسے

Thursday, 29 December 2022

اے شعاع سحر تازہ نئے سال کی ضو

 اے شعاعِ سحرِ تازہ نئے سال کی ضَو

میرے سینے میں بھڑکتی ہے ابھی درد کی لَو 

میری آنکھوں میں شکستہ ہیں ابھی رات کے خواب 

میرے دل پر ہے ابھی شعلۂ غم کا پرتَو 

جا بجا زخم تمنا کے مِری خاک میں ہیں 

کیا ابھی اور بھی ناوک کفِ افلاک میں ہیں

Saturday, 10 December 2022

یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن

 تو بہتر ہے یہی

یہ تِری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن 

کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں 

پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت کو 

بے خدا حافظ کہے چل دیں، جھکا کر گردنیں 

آؤ اس دُکھ کو پکاریں جس کی شدت نے ہمیں 

اس قدر اک دوسرے کے غم سے وابستہ کیا 

Tuesday, 22 November 2022

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو

 ترس رہا ہوں مگر تُو نظر نہ آ مجھ کو

کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو

وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر

وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو

چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت

پکار اب تو مِرے دیر آشنا مجھ کو

Tuesday, 1 November 2022

کسی کی بزم میں ہم اس خیال سے بھی گئے

 کسی کی بزم میں ہم اس خیال سے بھی گئے

کہ وہ نہ سمجھے کہ ہم عرضِ حال سے بھی گئے

ہمی تو تھے کبھی معیار دوسروں کی لیے

ہمی تو ہیں کہ خود اپنی مثال سے بھی گئے

سبک خرامیٔ اغیار کی نہ کر تقلید

کہ اس جنوں میں کئی اپنی چال سے بھی گئے

Friday, 7 October 2022

تمہاری پوروں کا لمس ابھی تک مری کف دست پر ہے

 وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے​


تمہاری پوروں کا لمس ابھی تک

مِری کفِ دست پر ہے

اور میں یہ سوچتا ہوں

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

وہ کہہ گئے تھے

Saturday, 6 August 2022

اے مرے سربريدہ بدن دريدہ سدا ترا نام برگزيدہ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ


اے مرے سربريدہ، بدن دريدہ

سدا تِرا نام برگزيدہ

ميں کربلا کے لہو لہو دشت ميں تجھے

دشمنوں کے نرغے ميں، تيغ در دست ديکھتا ہوں

ميں ديکھتا ہوں

Saturday, 9 July 2022

عید کارڈ تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

 عید کارڈ


تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا

مرمر کر یہ زہر پیا ہے

چپ رہنا آسان نہیں تھا

برسوں دل کا خون کیا ہے

جو کچھ گزری جیسی گزری

Wednesday, 27 April 2022

تھکا گیا ہے مسلسل سفر اداسی کا

 تھکا گیا ہے مسلسل سفر اداسی کا

اور اب بھی ہے میرے شانے پہ سر اداسی کا

وہ کون کیمیا گر تھا کہ جو بکھیر گیا

تیرے گلاب سے چہرے پہ زر اداسی کا

میرے وجود کے خلوت کدے میں کوئی نہ تھا

جو رکھ گیا ہے دِیا طاق پر اداسی کا

Friday, 22 April 2022

کل شب تھا عجب دید کا منظر میرے آگے

 کل شب تھا عجب دید کا منظر میرے آگے

دنیا تھی نہ ہونے کے برابر میرے آگے

جیسے متلاطم ہو سمندر میرے اندر

جیسے ہو کوئی ماہِ منور میرے آگے

اس وقت نہ تھی آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت

اک شہرِ طلسمات تھا یکسر میرے آگے

Friday, 8 April 2022

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

 اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئی

Monday, 4 April 2022

کتاب دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا

کتاب دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا

وہ چاہتوں کا مکمل حساب رکھتا تھا

فریب دیتا رہا دوستی کے پردوں میں

وہ شخص چہرے پے کتنے نقاب رکھتا تھا

آج اس کے ہاتھوں میں پتھر دکھائی دیتا ہے

جو اپنے ہاتھ میں ہر دم گلاب رکھتا تھا

Friday, 4 March 2022

سائے کی طرح نہ خود سے رم کر

 سائے کی طرح نہ خود سے رم کر

دیوار کو اپنا ہم قدم کر

اپنے ہی لیے بہا نہ دریا

اوروں کے لیے بھی آنکھ نم کر

تکمیل طلب نہیں ہے منزل

طے راہِ وفا قدم قدم کر

Wednesday, 2 March 2022

اب نہ فرصت ہے نہ احساس ہے غم سے اپنے

 اب نہ فرصت ہے نہ احساس ہے غم سے اپنے

ورنہ ہم روز ہی ملتے تھے صنم سے اپنے

دل نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں

لاکھ گمراہ ہوئے نقشِ قدم سے اپنے

جی چکے جو ہم یہی شوق کی رسوائی ہے

تم سے بیگانے ہوئے جاتے ہیں ہم سے اپنے

Monday, 28 February 2022

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے

 وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے

جہاں تلک تِرے قد کی اُٹھان جاتی ہے

یہ عہدِ سنگ زنی ہے سو چپ ہیں آئینہ گر

کہ لب کشا ہوں تو سمجھو دکان جاتی ہے

یہ مہربان مشیّت بھی ایک ماں کی طرح

میں ضد کروں تو مِری بات مان جاتی ہے

Friday, 25 February 2022

آئے تری محفل میں تو بے تاب بہت تھے

 آئے تِری محفل میں تو بے تاب بہت تھے

جو اہلِ وفا، واقفِ آداب بہت تھے

اس شہرِ محبت میں عجب کال پڑا ہے

ہم جیسے سبک لوگ بھی نایاب بہت تھے

کچھ دل ہی نہ مانا کہ سبک سر ہوں وگرنہ

آسودگئ جاں کے تو اسباب بہت تھے

Thursday, 24 February 2022

کیسی طلب اور کیا اندازے مشکل ہے تقدیر بنے

 کیسی طلب اور کیا اندازے، مشکل ہے تقدیر بنے

دل پر جس کا ہاتھ بھی رکھیو، آخر وہ شمشیر بنے

غم کے رشتے بھی نازک تھے تم آئے اور ٹوٹ گئے

دل کا وحشی اب کیا سنبھلے، اب کیا شے زنجیر بنے

اپنا لہو، تیری رعنائی، تاریکی اس دنیا کی

میں نے کیا کیا رنگ چنے ہیں دیکھوں کیا تصویر بنے