Saturday, 6 August 2022

اے مرے سربريدہ بدن دريدہ سدا ترا نام برگزيدہ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امام حسینؑ


اے مرے سربريدہ، بدن دريدہ

سدا تِرا نام برگزيدہ

ميں کربلا کے لہو لہو دشت ميں تجھے

دشمنوں کے نرغے ميں، تيغ در دست ديکھتا ہوں

ميں ديکھتا ہوں

کہ تيرے سب رفيق، سب ہمنوا، سبھی جانفروش

اپنے سروں کی

فصليں کٹا چکے ہيں

گلاب سے جسم اپنے خوں ميں نہا چکے ہيں

ہوائے جانکاہ کے بگولے

چراغ سے تابناک چہرے بجُھا چکے ہيں

مسافرانِ رہِ وفا لُٹ لٹا جا چکے ہيں

اور اب فقط تو

زمين کے اس شفق کدے ميں

ستارۂ صبح کی طرح

روشنی کا پرچم لیے کھڑا ہے

يہ ايک منظر نہيں

اک داستاں کا حصہ نہيں

اک واقعہ نہيں

يہيں سے تاريخ اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے

يہيں سے انسانيت

نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے

ميں آج اسی کربلا ميں بے آبرو، نگوں سر

شکست خوردہ، خجل کھڑا ہوں

جہاں سے ميرا عظيم ہادی

حسينؑ کل سرخرو گيا ہے

ميں جاں بچا کر، فنا کے دلدل ميں جاں بلب ہوں

وہ جاں لٹا کر

منارۂ عرش چُھو گيا ہے


احمد فراز

No comments:

Post a Comment