دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے
عشق میں اکثر ایسی خواری ملتی ہے
لوگ پتہ ہے کیوں اتنے دیوانے ہیں
اک ماڈل سے شکل تمہاری ملتی ہے
کبھی کبھی تو شعر بھی ہونے لگتے ہیں
دل کی چوٹ سے خوش گفتاری ملتی ہے
دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے
عشق میں اکثر ایسی خواری ملتی ہے
لوگ پتہ ہے کیوں اتنے دیوانے ہیں
اک ماڈل سے شکل تمہاری ملتی ہے
کبھی کبھی تو شعر بھی ہونے لگتے ہیں
دل کی چوٹ سے خوش گفتاری ملتی ہے
ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں
اس کے تو رخسار بھی باتیں کرتے ہیں
اتنا وقت میں دیتا ہوں اس لڑکی کو
اب تو میرے یار بھی باتیں کرتے ہیں
سو افسانے بن جاتے ہیں پل بھر میں
ہم دونوں دو چار بھی باتیں کرتے ہیں
اک دن مجھ سے بات کرو تم
سِم نہیں بدلی اب تک میں نے
نمبر میرا اب بھی وہی ہے
اب بھی وہی معمول ہے میرا
صبح کرو یا رات کرو تم
اک دن مجھ سے بات کرو تم
غزلیں لکھ لکھ پاگل ہونے والا ہوں
جھوٹ نہیں اب سچ میں رونے والا ہوں
باتیں کرنا فون پہ جان اب چھوڑو بھی
خواب میں آؤ میں بھی سونے والا ہوں
ہاتھ پکڑ کر روک لو میری جان مجھے
پھر دنیا کی بھیڑ میں کھونے والا ہوں
اے محبت! مجھ کو ایسا حوصلہ خیرات کر
اس کو بازو سے پکڑ کر کہہ سکوں کہ بات کر
جس طرح میں تجھ سے ملتا ہوں کسی کی اوٹ میں
اس طرح کا اک بہانہ تُو بھی میرے ساتھ کر
آنسوؤں کو بام پہ رکھ دل کو پھٹنے دے ذرا
ہجر کی اس رات کو بھی تُو شبِ بارات کر
اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے
اس سے ملنا ایک بہانہ ہوتا ہے
لوگ رعایت کم دیتے ہیں لیکن یار
عشق میں عاقل بھی دیوانہ ہوتا ہے
میں بھی زخمی ہو کر گھر کو جاتا ہوں
میرا دل بھی روز نشانہ ہوتا ہے
مل کر جو مجھ سے شاد ہو، ملتی رہا کرو
اچھے دنوں کی یاد ہو، ملتی رہا کرو
غم سے بھرے ہوئے مِرے دل میں کبھی کبھی
خوشیوں کا انعقاد ہو، ملتی رہا کرو
تازہ غزل کے شعر بھی تخلیق ہو سکیں
آساں یہ اقتصاد ہو، ملتی رہا کرو
محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں
آندھیاں پھل گرانے لگتی ہیں
ابر کے ساتھ یہ مصیبت ہے
بجلیاں گھر جلانے لگتی ہیں
اس لیے یار کم بناتا ہوں
یاریاں آزمانے لگتی ہیں
کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے
لفظ پہلے کسی میزان میں تولے جاتے
گھر کے اندر ہی چھپا کر اسے رکھنا ہوگا
ایسے ہیرے نہیں بازار میں رولے جاتے
ایک وہ ہے کہ نہیں بات ہی سنتا کوئی
ایک ہم ہیں کہ لگا تار ہیں بولے جاتے
چہرے سے کب عیاں ہے مِرے اضطرار بھی
لیکن میں کر رہا ہوں تِرا انتظار بھی
شاید ہو دسترس تجھے اپنے وجود پر
مجھ کو تو اس نظر پہ نہیں اختیار بھی
ملنے لگے ہیں اب تو خوشی کے لباس میں
غمہائے زندگی کا ہے کوئی شمار بھی؟
سر پر یہ جو چھت کا سایا ہوتا ہے
دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے
میں تو سب سے چھپ کر ملنے جاتا ہوں
اس نے آدھا شہر بلایا ہوتا ہے
جانے کس نے بات نکالی ہوتی ہے
سو لوگوں کو راز بتایا ہوتا ہے
روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے
خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے
اس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے
اب تو اس دیوانی سے ڈر لگتا ہے
اس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں
لیکن اس نادانی سے ڈر لگتا ہے
ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا
وہ چلی جائے گی ملتان کبھی سوچا تھا
اپنے الفاظ کو بے کار سمجھنے والے
ان سے ہو گی تری پہچان کبھی سوچا تھا
تم تو خاموش سمندر کو تکا کرتے تھے
اس کے اندر کا وہ طوفان کبھی سوچا تھا
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
اور وہ اور تم نہیں شاید
مجھ کو جس اور سے محبت ہے
یہ ہوں میں اور یہ مِری تصویر
دیکھ لے غور سے محبت ہے
یہ جو تصویر سے محبت ہے
دل کی جاگیر سے محبت ہے
خط کو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
اس کی تحریر سے محبت ہے
عشق ہے قید کی صعوبت سے
طوق و زنجیر سے محبت ہے