Showing posts with label فخر عباس. Show all posts
Showing posts with label فخر عباس. Show all posts

Tuesday, 5 July 2022

دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے

 دیوانہ پن اور بے کاری ملتی ہے

عشق میں اکثر ایسی خواری ملتی ہے

لوگ پتہ ہے کیوں اتنے دیوانے ہیں

اک ماڈل سے شکل تمہاری ملتی ہے

کبھی کبھی تو شعر بھی ہونے لگتے ہیں

دل کی چوٹ سے خوش گفتاری ملتی ہے

Friday, 21 January 2022

ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں

 ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں

اس کے تو رخسار بھی باتیں کرتے ہیں

اتنا وقت میں دیتا ہوں اس لڑکی کو

اب تو میرے یار بھی باتیں کرتے ہیں

سو افسانے بن جاتے ہیں پل بھر میں

ہم دونوں دو چار بھی باتیں کرتے ہیں

Tuesday, 6 July 2021

اک دن مجھ سے بات کرو تم

 اک دن مجھ سے بات کرو تم


سِم نہیں بدلی اب تک میں نے

نمبر میرا اب بھی وہی ہے

اب بھی وہی معمول ہے میرا

صبح کرو یا رات کرو تم

اک دن مجھ سے بات کرو تم

Tuesday, 26 January 2021

غزلیں لکھ لکھ پاگل ہونے والا ہوں

 غزلیں لکھ لکھ پاگل ہونے والا ہوں

جھوٹ نہیں اب سچ میں رونے والا ہوں

باتیں کرنا فون پہ جان اب چھوڑو بھی

خواب میں آؤ میں بھی سونے والا ہوں

ہاتھ پکڑ کر روک لو میری جان مجھے

پھر دنیا کی بھیڑ میں کھونے والا ہوں

Tuesday, 13 October 2020

اے محبت مجھ کو ایسا حوصلہ خیرات کر

 اے محبت! مجھ کو ایسا حوصلہ خیرات کر

اس کو بازو سے پکڑ کر کہہ سکوں کہ بات کر

جس طرح میں تجھ سے ملتا ہوں کسی کی اوٹ میں

اس طرح کا اک بہانہ تُو بھی میرے ساتھ کر

آنسوؤں کو بام پہ رکھ دل کو پھٹنے دے ذرا

ہجر کی اس رات کو بھی تُو شبِ بارات کر

Monday, 12 October 2020

اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے

 اصل میں اس کا روپ چرانا ہوتا ہے

اس سے ملنا ایک بہانہ ہوتا ہے

لوگ رعایت کم دیتے ہیں لیکن یار

عشق میں عاقل بھی دیوانہ ہوتا ہے

میں بھی زخمی ہو کر گھر کو جاتا ہوں

میرا دل بھی روز نشانہ ہوتا ہے

مل کر جو مجھ سے شاد ہو ملتی رہا کرو

مل کر جو مجھ سے شاد ہو، ملتی رہا کرو

اچھے دنوں کی یاد ہو، ملتی رہا کرو

غم سے بھرے ہوئے مِرے دل میں کبھی کبھی

خوشیوں کا انعقاد ہو، ملتی رہا کرو

تازہ غزل کے شعر بھی تخلیق ہو سکیں

آساں یہ اقتصاد ہو، ملتی رہا کرو

Sunday, 11 October 2020

محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں

 محنتیں یوں ٹھکانے لگتی ہیں

آندھیاں پھل گرانے لگتی ہیں

ابر کے ساتھ یہ مصیبت ہے

بجلیاں گھر جلانے لگتی ہیں

اس لیے یار کم بناتا ہوں

یاریاں آزمانے لگتی ہیں

کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے

 کتنا اچھا تھا کہ یہ راز نہ کھولے جاتے

لفظ پہلے کسی میزان میں تولے جاتے

گھر کے اندر ہی چھپا کر اسے رکھنا ہوگا

ایسے ہیرے نہیں بازار میں رولے جاتے

ایک وہ ہے کہ نہیں بات ہی سنتا کوئی

ایک ہم ہیں کہ لگا تار ہیں بولے جاتے

Saturday, 10 October 2020

چہرے سے کب عیاں ہے مرے اضطرار بھی

 چہرے سے کب عیاں ہے مِرے اضطرار بھی

لیکن میں کر رہا ہوں تِرا انتظار بھی

شاید ہو دسترس تجھے اپنے وجود پر

مجھ کو تو اس نظر پہ نہیں اختیار بھی

ملنے لگے ہیں اب تو خوشی کے لباس میں

غمہائے زندگی کا ہے کوئی شمار بھی؟

سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے

 سر پر یہ جو چھت کا سایا ہوتا ہے

دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے

میں تو سب سے چھپ کر ملنے جاتا ہوں

اس نے آدھا شہر بلایا ہوتا ہے

جانے کس نے بات نکالی ہوتی ہے

سو لوگوں کو راز بتایا ہوتا ہے

روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

 روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے

اس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے

اب تو اس دیوانی سے ڈر لگتا ہے

اس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں

لیکن اس نادانی سے ڈر لگتا ہے

Friday, 9 October 2020

ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا

 ایسا ہو گا کوئی نقصان کبھی سوچا تھا

وہ چلی جائے گی ملتان کبھی سوچا تھا

اپنے الفاظ کو بے کار سمجھنے والے

ان سے ہو گی تری پہچان کبھی سوچا تھا

تم تو خاموش سمندر کو تکا کرتے تھے

اس کے اندر کا وہ طوفان کبھی سوچا تھا

یہ جو لاہور سے محبت ہے

 یہ جو لاہور سے محبت ہے

یہ کسی اور سے محبت ہے

اور وہ اور تم نہیں شاید

مجھ کو جس اور سے محبت ہے

یہ ہوں میں اور یہ مِری تصویر

دیکھ لے غور سے محبت ہے

یہ جو تصویر سے محبت ہے

 یہ جو تصویر سے محبت ہے

دل کی جاگیر سے محبت ہے

خط کو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں

اس کی تحریر سے محبت ہے

عشق ہے قید کی صعوبت سے

طوق و زنجیر سے محبت ہے