Saturday, 10 October 2020

سر پر یہ جو چھت کا سایہ ہوتا ہے

 سر پر یہ جو چھت کا سایا ہوتا ہے

دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے

میں تو سب سے چھپ کر ملنے جاتا ہوں

اس نے آدھا شہر بلایا ہوتا ہے

جانے کس نے بات نکالی ہوتی ہے

سو لوگوں کو راز بتایا ہوتا ہے

اس نے سب انسان بچائے ہوتے ہیں

جس نے اک انسان بچایا ہوتا ہے

اس کا گھر ویران ہو یہ ناممکن ہے

صحن میں جس نے پیڑ اگایا ہوتا ہے

تم اک بات سمجھتے ہو پر شاعر نے

دل کا کوئی زخم دکھایا ہوتا ہے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment