سر پر یہ جو چھت کا سایا ہوتا ہے
دیواروں نے بوجھ اٹھایا ہوتا ہے
میں تو سب سے چھپ کر ملنے جاتا ہوں
اس نے آدھا شہر بلایا ہوتا ہے
جانے کس نے بات نکالی ہوتی ہے
سو لوگوں کو راز بتایا ہوتا ہے
اس نے سب انسان بچائے ہوتے ہیں
جس نے اک انسان بچایا ہوتا ہے
اس کا گھر ویران ہو یہ ناممکن ہے
صحن میں جس نے پیڑ اگایا ہوتا ہے
تم اک بات سمجھتے ہو پر شاعر نے
دل کا کوئی زخم دکھایا ہوتا ہے
فخر عباس
No comments:
Post a Comment