Saturday, 10 October 2020

روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

 روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے

اس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے

اب تو اس دیوانی سے ڈر لگتا ہے

اس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں

لیکن اس نادانی سے ڈر لگتا ہے

بچتا ہوں میں آئینے سے، مجھ کو بھی

آنکھوں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے

خوف ہے مجھ کو رات گئے تک رونے سے

غم کی یاد دہانی سے ڈر لگتا ہے

رُت کے ہر طوفان سے ہوں مانوس، مگر

بے موسم طغیانی سے ڈر لگتا ہے

جب سے اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے ہیں

تب سے مجھ کو پانی سے ڈر لگتا ہے


فخر عباس

No comments:

Post a Comment