آیتِ جاں سے درِ دل کو اُجالے رکھوں
مثلِ تعویذ گلے میں اسے ڈالے رکھوں
اس کے آنچل کی مہک چُھونے لگی میرا بدن
اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں
آ مِرے چاند! نہ کھا جائے ستاروں کی نظر
میں تِرے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں
آیتِ جاں سے درِ دل کو اُجالے رکھوں
مثلِ تعویذ گلے میں اسے ڈالے رکھوں
اس کے آنچل کی مہک چُھونے لگی میرا بدن
اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں
آ مِرے چاند! نہ کھا جائے ستاروں کی نظر
میں تِرے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں
دلوں کے بیچ رہتی ہے کبھی باہر نہیں جاتی
انائیں جیت جانے سے محبت مر نہیں جاتی
جو دب جاتی ہے سینے میں، جو رُک جاتی ہے ہونٹوں پر
کبھی مت سوچنا ایسی صدا اوپر نہیں جاتی
ہوس کی آندھیوں میں بال تک ہلتے نہیں میرے
حصارِعشق ہے ایسا ہوا چُھو کر نہیں جاتی
ڈوبتے وقت نگاہوں میں کنارے کیسے
تیز طوفاں میں گھروندوں کے سہارے کیسے
مسکراتی ہوئی آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں
ہم جسے جیت چکے تھے، اسے ہارے کیسے
آسماں چھوتے ہوئے شعلوں کو معلوم کہاں
راکھ کے ڈھیر میں پلتے ہیں شرارے کیسے