Showing posts with label ورد بزمی. Show all posts
Showing posts with label ورد بزمی. Show all posts

Wednesday, 27 April 2022

آیت جاں سے در دل کو اجالے رکھوں

 آیتِ جاں سے درِ دل کو اُجالے رکھوں

مثلِ تعویذ گلے میں اسے ڈالے رکھوں

اس کے آنچل کی مہک چُھونے لگی میرا بدن

اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں

آ مِرے چاند! نہ کھا جائے ستاروں کی نظر

میں تِرے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں

Tuesday, 25 January 2022

دلوں کے بیچ رہتی ہے کبھی باہر نہیں جاتی

 دلوں کے بیچ رہتی ہے کبھی باہر نہیں جاتی

انائیں جیت جانے سے محبت مر نہیں جاتی

جو دب جاتی ہے سینے میں، جو رُک جاتی ہے ہونٹوں پر

کبھی مت سوچنا ایسی صدا اوپر نہیں جاتی

ہوس کی آندھیوں میں بال تک ہلتے نہیں میرے

حصارِعشق ہے ایسا ہوا چُھو کر نہیں جاتی

Friday, 11 December 2020

ڈوبتے وقت نگاہوں میں کنارے کیسے

 ڈوبتے وقت نگاہوں میں کنارے کیسے

تیز طوفاں میں گھروندوں کے سہارے کیسے

مسکراتی ہوئی آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں

ہم جسے جیت چکے تھے، اسے ہارے کیسے

آسماں چھوتے ہوئے شعلوں کو معلوم کہاں

راکھ کے ڈھیر میں پلتے ہیں شرارے کیسے

Sunday, 23 February 2020

محبت عام کرتے ہیں

محبت عام کرتے ہیں
(پاکستان اور ہندوستان کتنے نام)


بہت بوسیدہ سی اک ڈائری میں، میں نے دیکھا ہے
کمال اسلام نانا نے کہا تھا رام بابا سے
تو کیا سمجھیں
رہیں گے مسئلے سب حل طلب یونہی؟
تمہارے راکھ ہونے تک
ہمارے خاک ہونے تک

نظر میں تاب ہی کم ہے کہ روشنی کم ہے

نظر میں تاب ہی کم ہے کہ روشنی کم ہے
بصارتوں کا بھرم ہے، کہ روشنی کم ہے
گہن لگا دیا سورج کو پہلی نسلوں نے
یہ میری نسل کا غم ہے کہ روشنی کم ہے
جو شہر بھر کے چراغ اپنے گھر جلاتا ہے
اسی کے در پہ رقم ہے کہ روشنی کم ہے

Saturday, 10 December 2016

راہوں میں مت خار بچھاؤ

راہوں میں مت خار بچھاؤ
مجھ سے آگے، بڑھ کر جاؤ
طوفانوں سے ڈرنے والو
ہمت کر کے دِیپ جلاؤ
گالی بَکنا ٹھیک نہیں ہے
بچوں کو تہذیب سکھاؤ

خواب در خواب خواب سارا ہی

خواب در خواب، خواب سارا ہی
بس ہے تعبیر، استعارہ ہی
ہے بہت زندگی بِتانے کو
اک تِرے خواب کا سہارا ہی
میری مُٹھی میں آ گیا دریا
بس کنارے کو تھا پکارا ہی

اٹھا وہ جبر تاہم جبر کی تمثیل باقی ہے

اٹھا وہ جبر، تاہم جبر کی تمثیل باقی ہے 
حقیقت میں ہمارے دیس کی تشکیل باقی ہے 
قدم رکھتا ہوں تو اک درد سا اٹھتا ہے پاؤں میں 
فرنگی فکر کی تلوے میں شاید کیل باقی ہے 
نہ جانے کس لیے اس قوم کی آنکھیں نہیں کھلتیں 
غلامی سے بھی بڑھ کر کیا کوئی تذلیل باقی ہے 

Saturday, 30 May 2015

آ اسی جھیل کے کنارے آ


آ، اسی جھیل کے کنارے آ
آ، مِرے پیار کے سہارے آ
آ، کہ ٹوٹے سکوت لہروں کا
آ، کہ بہنے لگیں یہ دھارے، آ
آ، کہ دل کو قرار آ جائے
آ، کہ دل بولے آرے آ، آرے آ

آیت جاں سے در دل کو اجالے رکھوں

آیتِ جاں سے درِ دل کو اجالے رکھوں
مثلِ تعویذ گلے میں اسے ڈالے رکھوں
اس کے آنچل کی مہک چھونے لگی میرا بدن
اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں
آ! مرے چاند نہ لگ جائے ستاروں کی نظر
میں ترے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں

شفق یقین کی جب آسماں سے پھوٹے گی

شفق یقین کی جب آسماں سے پھوٹے گی
تو روشنی ہی مِرے جسم و جاں سے پھوٹے گی
زمینِ دل پہ جو برسیں گے یاد کے بادل
تِرے خیال کی خوشبو یہاں سے پھوٹے گی
وہ جس نے آگ کو گلزار سے بدل ڈالا
مِری کہانی اُسی داستاں سے پھوٹے گی

گم سم گم سم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے

گم سم گم سم سے رہتے ہیں ہم دل کا جانی کھو بیٹھے
آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے، آنکھوں کا پانی کھو بیٹھے
جو دل میں جوت جگاتی تھی، جو شب بھر نور لٹاتی تھی
جو تیرے گھر تک آتی تھی، وہ راہ پرانی کھو بیٹھے تھے
سکھ اور دکھ کی برسات کریں، جو چاہیں اب حالات کریں
خاموش رہیں یا بات کریں، کردار کہانی کھو بیٹھے

اے مری نیند مجھے خواب سے اب یاد میں لا

اے مِری نیند مجھے خواب سے اب یاد میں لا
کنجِ ویراں سے اٹھا خطۂ آباد میں لا
منکرِ صبر نہیں ہیں مگر اے صبر فشاں
صبر کرنے کی دوا کو کسی معیاد میں لا
بکھرے بکھرے ہوئے خاکوں میں ہیں بکھرے سے نقوش
میرے چہرے کو کبھی موسمِ ایجاد میں لا

یہ پیاس پانی میں تحلیل ہونے والی ہے

یہ پیاس پانی میں تحلیل ہونے والی ہے
اب اضطراب کی تکمیل ہونے والی ہے
ابھر رہا ہے کہیں کوہِ ہجر سے سورج
جدائی وصل میں تبدیل ہونے والی ہے
کنول کھلیں گے جہاں خاکِ ہجر اڑتی تھی
وہ آنکھ دشت سے اب جھیل ہونے والی ہے

خوں میں لتھڑی ہوئی پوشاک سحر ملتی ہے

خوں میں لتھڑی ہوئی پوشاکِ سحر ملتی ہے
بند بوری میں کٹی لاشِ بشر ملتی ہے
خوف کے سائے نظر آتے ہیں ہر چہرے پر
سہمی سہمی ہوئی ہر راہگزر ملتی ہے
محوِ رقص اژدہے سفاکی و دہشت کے ملیں
فاختہ گریہ کناں شہر بدر ملتی ہے