Saturday, 10 December 2016

اٹھا وہ جبر تاہم جبر کی تمثیل باقی ہے

اٹھا وہ جبر، تاہم جبر کی تمثیل باقی ہے 
حقیقت میں ہمارے دیس کی تشکیل باقی ہے 
قدم رکھتا ہوں تو اک درد سا اٹھتا ہے پاؤں میں 
فرنگی فکر کی تلوے میں شاید کیل باقی ہے 
نہ جانے کس لیے اس قوم کی آنکھیں نہیں کھلتیں 
غلامی سے بھی بڑھ کر کیا کوئی تذلیل باقی ہے 
کوئی ہابیل کی خاطر عدالت میں نہیں جاتا
ہمارے شہر میں زندہ تبھی قابیل باقی ہے 
جہاں عصمت نہ لٹتی ہو جہاں ڈاکے نہ پڑتے ہوں 
کہیں اس دیس میں ایسی کوئی تحصیل باقی ہے 
میرے اشعار ابھی سے چبھ رہے ہیں حکمرانوں کو 
انہیں کہہ دو کہ یہ تمہید تھی، تفصیل باقی ہے

ورد بزمی

No comments:

Post a Comment