Saturday, 10 December 2016

خواب در خواب خواب سارا ہی

خواب در خواب، خواب سارا ہی
بس ہے تعبیر، استعارہ ہی
ہے بہت زندگی بِتانے کو
اک تِرے خواب کا سہارا ہی
میری مُٹھی میں آ گیا دریا
بس کنارے کو تھا پکارا ہی
اک زمانے کو تھی طلب لیکن
دل ہمارا، رہا تمہارا ہی
گِن رہا تھا میں رات کے تارے
بجھ گیا صبح کا ستارہ ہی
اک سفر دیر سے ہے آنکھوں میں
کھو گیا وقت کا کنارہ ہی
بولنے کی نہ کر سکا جرأت
بس میں کرتا رہا اشارہ ہی
صرف ایثار ہے سرشت اپنی
اپنا احساس ہے خسارہ ہی
شاخ نے ورؔد کو جھٹک ڈالا
ایک دن اس نے تھا گزارا ہی
تیرتا ورؔد کہہ رہا ہے تمہیں 
سونگھ لو خوشبوؤں کا دھارا ہی

ورد بزمی

No comments:

Post a Comment