Showing posts with label معصوم صابری. Show all posts
Showing posts with label معصوم صابری. Show all posts

Thursday, 1 August 2024

صدیق جو نبی کے بنے یار غار ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صدیقؓ جو نبیﷺ کے بنے یار غار ہیں

آقائے دو جہانﷺ کے وہ راز دار ہیں

کلمہ پڑھا تھا سب سے ہی پہلے تو عاشقو

ایسے نبیؐ کے دل سے وہ جاں سے نثار ہیں

گھر بار سب لُٹا دیا کہنے پہ آپﷺ کے

بس آپﷺ اور گھر میں تو پروردگار ہیں

Tuesday, 16 May 2023

ضرورت ہے سرکار خیرات کی

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ضرورت ہے سرکارﷺ خیرات کی

نظر مجھ پہ بھی ہو عنایات کی

میں خاموش رہتا ہوں آقاﷺ مرے

زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی

ہو دیدار سرکارﷺ کا خواب میں

تمنا مجھے ہے ملاقات کی

Monday, 19 September 2022

پڑھا ہے جس نے سدا لا الہ الا اللہ

عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام


پڑھا ہے جس نے سدا، لا الٰہ الا اللہ

ٹلی ہے اس سے بلا، لا الہ الا اللہ

سبھی کے کان تو سنتے فقط ہیں موسیقی

"کہاں سے آئے صدا، لا الہ الا اللہ"

لگا ہوں جب سے بھی کہنے نبیؐ کی نعتیں میں

کرم کی ہوئی عطا، لا الہ الا اللہ

Tuesday, 4 January 2022

جامع قرآن عثمان غنی ہیں

 منقبت بر حضرت عثمانؓ ذوالنورین 


جامع قرآن عثمانؓ غنی ہیں 

دین کی تو شان عثمانؓ غنی ہیں

نور کی پہچان عثمانؓ غنی ہیں

حق کی وہ برہان عثمانؓ غنی ہیں

مصطفیٰؐ بھی ہیں کریں پاس حیا کا

وہ حیا کی شان عثمانؓ غنی ہیں

Tuesday, 7 December 2021

ہر وقت تصور میں محمد کی عطا ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہر وقت تصور میں محمدﷺ کی عطا ہو

سینے میں لبوں پر تو فقط انؐ کی ثنا ہو

کرتی رہے جو ذکر نبیِ پاکﷺ کا ہر دم

مجھ کو بھی عنایت وہ زباں میرے خدا ہو

یا رب! کرم، آئے مجھے موت وہاں پر

طیبہ میں بدن میرا تو مٹی میں ملا ہو

بھڑکیں یہ بدن حشر میں جس وقت ہمارے

Thursday, 10 September 2020

بس سانس تو ہماری یوں دھڑکن میں رہ گئی

بس سانس تو ہماری یوں دھڑکن میں رہ گئی
خوشبو تمہاری دل کے ہی گلشن میں رہ گئی
خاموش لب تھے میرے، محوِ دید میں ہوا
پھر بات میرے من کی مِرے من میں رہ گئی
میں آ گیا وہاں سے سے، نظر اب تلک مِری
جاناں نگر میں ان کے ہے درشن میں رہ گئی

Wednesday, 9 September 2020

وہ سامنے یوں آ کے پھر رلا رہا ہے آج کیوں

وہ سامنے یوں آ کے پھر رلا رہا ہے آج کیوں
وہ دیپ یاد کے مِرے جلا رہا ہے آج کیوں
گزر گئے ہیں ماہ و سال، چھا گئی ہے گرد بھی
دھواں دھواں سا ذہن و دل پہ چھا رہا ہے آج کیوں
چراغ سب بجھا دئیے ہیں یاد کے تِرے صنم
نظر میں جگنو سا یہ ٹمٹما رہا ہے آج کیوں

Monday, 7 September 2020

چلا ہے آج سفینہ مرا بسم اللہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

چلا ہے آج سفینہ مِرا بسم اللہ
نبیؐ کے شہر مدینہ مِرا بسم اللہ
امیر کتنا میں ہوں بن گیا دنیا میں
ہے نعت کا یہ خزینہ مِرا بسم اللہ
فضا میں طیبہ کی پھیلی عجب یہ خوشبو
مہک رہا ہے پسینہ مِرا بسم اللہ

شراب طہورا پلا میٹھی میٹھی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

ہماری فکرِ رسا میٹھی میٹھی
کہ طیبہ سے آئی ہوا میٹھی میٹھی
میں بیمارِ عشقِ حبیبؐ خدا ہوں
شرابِ طہورا پلا میٹھی میٹھی
چلا میں مدینے کی جانب خدایا
دِلا مجھ کو بادِ صبا میٹھی میٹھی

دن رات شکر کر ادا پل پل درود پڑھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

مشکل سے دور رہنے کو پل پل درود پڑھ
مشکل کشا حضور پہ جل تھل درود پڑھ
دنیا سے بچ کے رہنا ہے گر تجھ کو میرے یار
محبوبِﷺ کبریا پہ مسلسل درود پڑھ
تجھ کو سکون قلب ملے گا ضرور بس
"یادوں میں ان کی ڈوب کے ہر پل درود پڑھ"

Monday, 31 August 2020

عکس روئے مصطفٰی سے ایسی زیبائی ملی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

عکسِ روۓ مصطفٰیﷺ سے ایسی زیبائی ملی
خاکداں روشن ہوا، ذرے کو رعنائی ملی
نعت گوئی سے مجھے ایسی پذیرائی ملی
عام سا تھا آدمی، مجھ کو بھی اونچائی ملی
سر زمینِ طیبہ میں جب آمدِ احمدﷺ ہوئی
کھل اٹھا رنگ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

اے کاش موت مجھ کو مدینہ نصیب ہو​

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

اے کاش موت مجھ کو مدینہ نصیب ہو​
کلمہ بھی آپ کا مجھے پڑھنا نصیب ہو
جب وقت ہو قریب مِری موت کا تو پھر
آقا حضور آپﷺ کا جلوہ نصیب ہو
آنکھیں ترس رہی ہیں مِری دید کو مگر
اے کاش مجھ کو روضے پہ جانا نصیب ہو

Monday, 10 February 2020

مجھ سے ملنے میں مزا کیسا ہے آ کر دیکھو

مجھ سے ملنے میں مزہ کیسا ہے آ کر دیکھو
"دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو"
کون سنتا ہے زمانے میں غریبوں کی صدا
حکمرانوں کے ضمیروں کو جگا کر دیکھو
روٹھنے میں بھی، منانے میں مزہ ہوتا ہے
تم ذرا مجھ کو صنم میرے منا کر دیکھو

ہم ہیں بیٹھے ہوئے ادھر تنہا

ہم ہیں بیٹھے ہوئے ادھر تنہا
جاگتے وہ رہے ادھر تنہا
آج تارے بھی سو گئے جلدی
آج دیکھا وہاں قمر تنہا
دن گزرتا ہے بےکلی میں پھر
رات جاگے کوئی کدھر تنہا

لگائے رکھتا ہوں مٹی کو بندگی کی طرح

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

لگائے رکھتا ہوں مٹی کو بندگی کی طرح
سمجھ کے خاکِ شفا جسم پہ زندگی کی طرح
چھٹی ہے تیرگی عالم سے ان کی آمد پر
چمک رہا ہے یہ چہرہ تو روشنی کی طرح
میں شکر کیوں نہ کروں آپ کا ہزار بار
سنبھال مجھ کو جو رکھا ہے امتی کی طرح