وہ سامنے یوں آ کے پھر رلا رہا ہے آج کیوں
وہ دیپ یاد کے مِرے جلا رہا ہے آج کیوں
گزر گئے ہیں ماہ و سال، چھا گئی ہے گرد بھی
دھواں دھواں سا ذہن و دل پہ چھا رہا ہے آج کیوں
چراغ سب بجھا دئیے ہیں یاد کے تِرے صنم
نجانے دل میں اب کیا سما گیا ہے اس کے پھر
وہ کر کے درد آشنا ہنسا رہا ہے آج کیوں
جو بات کرتا وصل کی ہر وقت سامنے مِرے
وہ گیت ہجر کے مجھے سنا رہا ہے آج کیوں
بڑی مشکلوں سے بھول پاۓ تھے صنم تجھے
دبے ہوۓ تُو درد کو جگا رہا ہے آج کیوں
پسند صابری کبھی وہ مجھ کو کرتا تھا نہیں
زمیں سے مجھ کو آسماں بنا رہا ہے آج کیوں
معصوم صابری
No comments:
Post a Comment