عجیب حشر ہے برپا، عجب عذاب کی لَو
جلا رہی ہے بدن کو تیرے شباب کی لو
غریبی میں بھی امیروں سا شوق رکھتا ہوں
مٹا نہ ڈالے کہیں مجھ کو میرے خواب کی لو
ذہن کو رکھتی ہے تازہ پڑھا کرو اس کو
ابھی تو ساغر و ساقی میں مست ہے دنیا
کسی نے دیکھی کہاں ہے ابھی شراب کی لو
زمانے والوں کے پتھر سے کب مرا مجنوں
مٹا گئی مجھے لیلیٰ تیرے گلاب کی لو
ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے دل تیری جانب
نظر کو لگتی ہے اچھی تیرے حجاب کی لو
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment