Wednesday, 9 September 2020

جدھر بھی ساقی مے خانہ آیا

جدھر بھی ساقیٔ میخانہ آیا
نظر رقص مۓ و پیمانہ آیا 
کبھی کعبہ کبھی بت خانہ آیا 
سر منزل در جانانہ آیا 
ہوا اندازۂ بادہ پرستی 
سمجھ میں جب خط پیمانہ آیا 
ہجوم حشر ہے محو تماشا 
الٰہی کس کا یہ دیوانہ آیا 
مِری ہستی کا پردہ سامنے تھا 
نظر جب جلوۂ جانانہ آیا 
عجب دیوانہ تھا دیوانہ ان کا 
جسے دیکھا نظر دیوانہ آیا 
وہاں بھی کر لیا سجدہ خدا کو 
کوئی جب راہ میں بت خانہ آیا 
معاذ اللہ نزاع دیر و کعبہ 
بحمد اللہ در مے خانہ آیا 
کریں سجدہ مجھے سب اہل محشر 
جو تم کہہ دو مِرا دیوانہ آیا 
جو شب کو رہ گیا جلنے سے باقی 
حضور حسن وہ پروانہ آیا 
غم دوراں کا پھر کیا ذکر افقرؔ 
مۓ رنگیں کا جب پیمانہ آیا 

افقر موہانی وارثی

No comments:

Post a Comment