Showing posts with label قمر انجم. Show all posts
Showing posts with label قمر انجم. Show all posts

Wednesday, 29 November 2023

جبیں میری ہو سنگ در تمہارا یا رسول اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جبیں میری ہو سنگِ در تمہارا یا رسول اللہﷺ

یہی ہے ایک جینے کا سہارا یا رسول اللہﷺ

دکھا دو اپنا چہرہ پیارا پیارا یا رسول اللّٰہﷺ

خدا را جیتے جی کر لوں نظارہ یا رسول اللہﷺ

نہیں فُرقت میں اب جینے کا چارا یا رسول اللہﷺ

بُلا لو اپنے قدموں میں خدا را یا رسول اللہﷺ

Monday, 19 April 2021

محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے

 محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہے

اگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہے

اگاؤ دور تک اے دوستوں فصلیں محبت کی

محبت جس جگہ ہوتی نہیں لعنت برستی ہے

وہ راہِ زندگی میں مسکرانا بھُول جاتا ہے

غریبی جس کو اپنی زلف کے پنجے میں کستی ہے

Friday, 5 March 2021

شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر

 شامِ وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر

اور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھر

جس سے تم دامن کشاں ہو زندگی کی راہ میں

روح کہ گہرائیوں میں وہ اتر جائے تو پھر

تجھ کو ہے جس کی وفاؤں پر نہایت اعتماد

ریزہ ریزہ کر کے وہ تجھ کو بکھر جائے تو پھر

Thursday, 25 February 2021

جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائے

 جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائے

حُسن رُسوا سرِ بازار نہ ہونے پائے

مُدتوں محفلِ ساقی میں رہے ہیں لیکن

جام چھُونے کے گُنہ گار نہ ہونے پائے

بزمِ احباب میں آیا ہوں مگر ڈر یہ ہے

کوئی فتنہ پسِ دیوار نہ ہونے پائے

Tuesday, 23 February 2021

وہ جان انتظار آئے نہ آئے

 وہ جانِ انتظار آئے نہ آئے

مِرے دل کو قرار آئے نہ آئے

یقیں ہے آئے گا دور مسرت

کسی کو اعتبار آئے نہ آئے

خزاں کا دور تو ہو جائے رخصت

گلستاں میں بہار آئے نہ آئے

Saturday, 20 February 2021

دل میں جب سے ہوا قیام ترا

 دل میں جب سے ہوا قیام تِرا

ہر کوئی پوچھتا ہے نام ترا

سب کے احساس پر چھایا ہے تو

ہر جگہ پر ہے ذکر عام ترا

ہٹ کے چلتی ہے تیرے پیکر سے

دھوپ کرتی ہے احترام ترا

Thursday, 18 February 2021

ماہ مدینہ تیری ضیا سے سارا جہاں ہے جگمگ جگمگ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سینۂ ہستی روشن روشن کاہکشاں ہے جگمگ جگمگ

ماہِ مدینہ تیری ضیا سے سارا جہاں ہے جگمگ جگمگ

دل کا مدینہ رخشندہ ہے کعبۂ جاں ہے جگمگ جگمگ

ہم نے اب یہ جان لیا ہے کون کہاں جگمگ جگمگ

فرش کی ہر شے تجھ سے منور اور فلک ہے تجھ سے درخشاں

تُو ہی یہاں ہے جگمگ جگمگ تُو ہی وہاں ہے جگمگ جگمگ

تیری نظروں سے نظروں کا ملانا بھی ہے بے ادبی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تیری نظروں سے نظروں کا ملانا بھی ہے بے ادبی

تیری سرکار میں نظریں اٹھانا بھی ہے بے ادبی

وہ ناداں ہیں جو اونچا بولتے ہیں تیری نگری میں

وہاں تو بے تکلف مسکرانا بھی ہے بے ادبی

فرشتے جن کی مٹی پر قدم رکھتے جھجکتے ہیں

وہاں مجھ جیسے بندے کا ہے جانا بھی ہے بے ادبی