Friday, 5 March 2021

شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر

 شامِ وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھر

اور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھر

جس سے تم دامن کشاں ہو زندگی کی راہ میں

روح کہ گہرائیوں میں وہ اتر جائے تو پھر

تجھ کو ہے جس کی وفاؤں پر نہایت اعتماد

ریزہ ریزہ کر کے وہ تجھ کو بکھر جائے تو پھر

امن کا پرچم لیے پھرتے ہو سارے شہر میں

اور ننگِ آدمیت تم ہی کہلائے تو پھر

لکڑیوں کے گھر میں مٹی کا دِیا اچھا نہیں

روشنی کے بدلے اس میں آگ لگ جائے تو پھر


قمر انجم

No comments:

Post a Comment