سہہ نہیں پا رہا دباؤ دماغ
کہہ رہا ہے مجھے بچاؤ دماغ
دل کی سنتے ہیں مجھ سے پاگل لوگ
تجھ کو دیتے نہیں ہے بھاؤ دماغ
راہ مشکل ہے، پیر زخمی ہیں
کیسے چلنا ہے اب چلاؤ دماغ
سہہ نہیں پا رہا دباؤ دماغ
کہہ رہا ہے مجھے بچاؤ دماغ
دل کی سنتے ہیں مجھ سے پاگل لوگ
تجھ کو دیتے نہیں ہے بھاؤ دماغ
راہ مشکل ہے، پیر زخمی ہیں
کیسے چلنا ہے اب چلاؤ دماغ
یہ جو رانجھا قیس اور فرہاد ہیں
عاشقوں کے آباء و اجداد ہیں
کل پرندے ہی پرندے تھے یہاں
اب فقط صیاد ہی صیاد ہیں
سب نہ سمجھے بے ثمر پیڑوں کے دُکھ
بس وہی سمجھے جو بے اولاد ہیں
اس وجہ سے پرس میں تنویر ہے
پرس میں رکھی تِری تصویر ہے
ہم ہیں دیوانے ہمیں مت پوچھیے
آج کیا اتوار ہے؟ یا پیر ہے
سارے ہنستے ہیں مِری تقدیر پر
کیا مِری تقدیر کی تقدیر ہے
پتھر پڑے زمیں پہ گِرا پھر کھڑا ہوا
عاشق تمہارا آج ہے مجنوں بنا ہوا
برسوں پرانا سوکھ چکا تھا جو ایک پیڑ
اس نے لگایا ہاتھ تو پھر سے ہرا ہوا
مجھ کو سمجھ رہا نہیں قسمت کا یہ لکھا
کوئی مجھے بتائے گا پڑھ کر لکھا ہوا
تنہا جا کر بیٹھ گیا ہے جنگل میں
مجھ کو مجنوں دِکھتا ہے اس پاگل میں
ساتھ میں کیسے مر سکتے ہیں میری جاں
باقی ہے بس ایک ہی گولی پسٹل میں
اس کے گھر ٹھہرے تھے اس کے اپنے خاص
میرے جیسے ٹھہر گئے تھے ہوٹل میں