Showing posts with label شکیل ساحر. Show all posts
Showing posts with label شکیل ساحر. Show all posts

Sunday, 11 September 2022

سہہ نہیں پا رہا دباؤ دماغ

 سہہ نہیں پا رہا دباؤ دماغ

کہہ رہا ہے مجھے بچاؤ دماغ

دل کی سنتے ہیں مجھ سے پاگل لوگ

تجھ کو دیتے نہیں ہے بھاؤ دماغ

راہ مشکل ہے، پیر زخمی ہیں

کیسے چلنا ہے اب چلاؤ دماغ

Thursday, 25 August 2022

یہ جو رانجھا قیس اور فرہاد ہیں

 یہ جو رانجھا قیس اور فرہاد ہیں

عاشقوں کے آباء و اجداد ہیں

کل پرندے ہی پرندے تھے یہاں

اب فقط صیاد ہی صیاد ہیں

سب نہ سمجھے بے ثمر پیڑوں کے دُکھ

بس وہی سمجھے جو بے اولاد ہیں

Saturday, 20 August 2022

اس وجہ سے پرس میں تنویر ہے

 اس وجہ سے پرس میں تنویر ہے

پرس میں رکھی تِری تصویر ہے

ہم ہیں دیوانے ہمیں مت پوچھیے

آج کیا اتوار ہے؟ یا پیر ہے

سارے ہنستے ہیں مِری تقدیر پر

کیا مِری تقدیر کی تقدیر ہے

Friday, 19 August 2022

پتھر پڑے زمیں پہ گرا پھر کھڑا ہوا

 پتھر پڑے زمیں پہ گِرا پھر کھڑا ہوا 

عاشق تمہارا آج ہے مجنوں بنا ہوا 

برسوں پرانا سوکھ چکا تھا جو ایک پیڑ 

اس نے لگایا ہاتھ تو پھر سے ہرا ہوا 

مجھ کو سمجھ رہا نہیں قسمت کا یہ لکھا 

کوئی مجھے بتائے گا پڑھ کر لکھا ہوا 

Friday, 3 December 2021

تنہا جا کر بیٹھ گیا ہے جنگل میں

 تنہا جا کر بیٹھ گیا ہے جنگل میں

مجھ کو مجنوں دِکھتا ہے اس پاگل میں

ساتھ میں کیسے مر سکتے ہیں میری جاں

باقی ہے بس ایک ہی گولی پسٹل میں

اس کے گھر ٹھہرے تھے اس کے اپنے خاص

میرے جیسے ٹھہر گئے تھے ہوٹل میں