سہہ نہیں پا رہا دباؤ دماغ
کہہ رہا ہے مجھے بچاؤ دماغ
دل کی سنتے ہیں مجھ سے پاگل لوگ
تجھ کو دیتے نہیں ہے بھاؤ دماغ
راہ مشکل ہے، پیر زخمی ہیں
کیسے چلنا ہے اب چلاؤ دماغ
تم پڑھائی کرو یا عشق کرو
دل لگاؤ، یا پھر لگاؤ دماغ
تھوڑا آرام دو کبھی دل کو
تم کبھی کام میں بھی لاؤ دماغ
شکیل ساحر
No comments:
Post a Comment