وہ اب بھی آئینے سے لڑ رہا ہے
مسلسل اپنے اندر سڑ رہا ہے
یہاں ہر شہر میں ہے رقص بسمل
وہ پھر بھی جھوٹا قصہ گڑھ رہا ہے
میری تحریر پر صد یورشیں ہیں
تخیل شاخ سے کیوں جھڑ رہا ہے
کتاب زیست کے ہر اک ورق پر
کوئی کیڑا عبارت پڑھ رہا ہے
اے زاہد!! دور رہنا کج کُلہ سے
وہ اپنے سر پہ خود ہی چڑھ رہا ہے
زاہد مختار
No comments:
Post a Comment