Sunday, 11 September 2022

وہ اب بھی آئینے سے لڑ رہا ہے

 وہ اب بھی آئینے سے لڑ رہا ہے

مسلسل اپنے اندر سڑ رہا ہے

یہاں ہر شہر میں ہے رقص بسمل

وہ پھر بھی جھوٹا قصہ گڑھ رہا ہے

میری تحریر پر صد یورشیں ہیں

تخیل شاخ سے کیوں جھڑ رہا ہے

کتاب زیست کے ہر اک ورق پر

کوئی کیڑا عبارت پڑھ رہا ہے

اے زاہد!! دور رہنا کج کُلہ سے

وہ اپنے سر پہ خود ہی چڑھ رہا ہے


زاہد مختار

No comments:

Post a Comment