لیجیے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ
آئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ
ہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں
ہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ
ذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود
جب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ
لیجیے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ
آئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ
ہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں
ہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ
ذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود
جب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ
نا دیکھا ہو گا جو تم نے وہ تھم کر دیکھتے جاؤ
لبوں تک آ چکی ہے جانِ مضطر دیکھتے جاؤ
جوانی کی اداؤں کا زمانہ آتا جاتا ہے
قیامت ڈھائے گی شانِ ستمگر دیکھتے جاؤ
غضب تھا صبحِ وصل اس کا یہ مجھ سے کہنا
ہماری نیم باز آنکھوں کے جوہر دیکھتے جاؤ
شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی
ہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی
بیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں
او ستم گر تِرے دل میں مِرا گھر ہو تو سہی
دل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل، لیکن
ہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی
آپ دل کھول کر بے داد پہ بیداد کریں
اور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریں
حشر میں اس کی نظر ہو گئی نیچی ہم سے
ہو سکے جن سے وہ اب شکوۂ جلاد کریں
کچھ تو فرمائیے انصاف اگر ہے کوئی چیز
آپ کو دل سے بُھلائیں تو کسے یاد کریں؟
نہ فلک ہو گا نہ یہ کوچۂ قاتل ہو گا
مِرے کہنے میں کسی دن جو مِرا دل ہو گا
جب نمایاں وہ سوار رہِ منزل ہو گا
نہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مِرا دل ہو گا
آدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل
ہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہو گا
وہ ہٹا رہے ہیں پردہ، سر بام چُپکے چُپکے
میں نظارہ کر رہا ہوں، سر شام چپکے چپکے
یہ جھکی جھکی نگاہیں، یہ حسیں حسیں اشارے
مجھے دے رہے ہیں شاید، یہ پیام چپکے چپکے
نہ دکھاؤ چلتے چلتے، یوں قدم قدم پہ شوخی
کوئی قتل ہو رہا ہے، سر عام چپکے چپکے
کہا تھا کس نے کہ مقبول ہو دعائے بہار
نہ تم ہو ساتھ مِرے اور چلے ہوائے بہار
اثر ہر ایک پہ کرنے لگی ادائے بہار
کِھلے وہ پھول وہ چلنے لگی ہوائے بہار
ہمارے زخمِ جِگر خود بخود ہرے ہوتے
اگر نہ ہوتی زمانے میں ابتدائے بہار