Showing posts with label عالم لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label عالم لکھنوی. Show all posts

Thursday, 3 August 2023

لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ

 لیجیے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگ 

آئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگ 

ہم نے جھیلی ہیں زمانے میں کشش کی کڑیاں 

ہم سے پوچھے کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا رنگ 

ذکر تدبیر عبث فکر رہائی بے سود 

جب کہ مٹتا نظر آنے لگا تقدیر کا رنگ 

Sunday, 16 April 2023

نا دیکھا ہو گا جو تم نے وہ تھم کر دیکھتے جاؤ

 نا دیکھا ہو گا جو تم نے وہ تھم کر دیکھتے جاؤ

لبوں تک آ چکی ہے جانِ مضطر دیکھتے جاؤ

جوانی کی اداؤں کا زمانہ آتا جاتا ہے

قیامت ڈھائے گی شانِ ستمگر دیکھتے جاؤ

غضب تھا صبحِ وصل اس کا یہ مجھ سے کہنا

ہماری نیم باز آنکھوں کے جوہر دیکھتے جاؤ

Thursday, 8 September 2022

شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی

 شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہی

ہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہی

بیٹھنے والے نہ بیٹھیں گے کبھی محفل میں

او ستم گر تِرے دل میں مِرا گھر ہو تو سہی

دل بے تاب کا ملنا نہیں مشکل، لیکن

ہاتھ بھر کا کسی سینے میں جگر ہو تو سہی

Friday, 19 August 2022

آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریں

 آپ دل کھول کر بے داد پہ بیداد کریں

اور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریں

حشر میں اس کی نظر ہو گئی نیچی ہم سے

ہو سکے جن سے وہ اب شکوۂ جلاد کریں

کچھ تو فرمائیے انصاف اگر ہے کوئی چیز

آپ کو دل سے بُھلائیں تو کسے یاد کریں؟

Tuesday, 2 August 2022

نہ فلک ہو گا نہ یہ کوچۂ قاتل ہو گا

 نہ فلک ہو گا نہ یہ کوچۂ قاتل ہو گا

مِرے کہنے میں کسی دن جو مِرا دل ہو گا

جب نمایاں وہ سوار رہِ منزل ہو گا

نہ تو میں آپ میں ہوں گا نہ مِرا دل ہو گا

آدھی رات آ گئی بس بس دل بے تاب سنبھل

ہم سمجھتے ہیں جو اس کرب کا حاصل ہو گا

Sunday, 31 July 2022

وہ ہٹا رہے ہیں پردہ، سر بام چپکے چپکے

 وہ ہٹا رہے ہیں پردہ، سر بام چُپکے چُپکے

میں نظارہ کر رہا ہوں، سر شام چپکے چپکے

یہ جھکی جھکی نگاہیں، یہ حسیں حسیں اشارے

مجھے دے رہے ہیں شاید، یہ پیام چپکے چپکے

نہ دکھاؤ چلتے چلتے، یوں قدم قدم پہ شوخی

کوئی قتل ہو رہا ہے، سر عام چپکے چپکے

Tuesday, 2 November 2021

کہا تھا کس نے کہ مقبول ہو دعائے بہار

 کہا تھا کس نے کہ مقبول ہو دعائے بہار

نہ تم ہو ساتھ مِرے اور چلے ہوائے بہار

اثر ہر ایک پہ کرنے لگی ادائے بہار

کِھلے وہ پھول وہ چلنے لگی ہوائے بہار

ہمارے زخمِ جِگر خود بخود ہرے ہوتے

اگر نہ ہوتی زمانے میں ابتدائے بہار