Tuesday, 2 November 2021

کہا تھا کس نے کہ مقبول ہو دعائے بہار

 کہا تھا کس نے کہ مقبول ہو دعائے بہار

نہ تم ہو ساتھ مِرے اور چلے ہوائے بہار

اثر ہر ایک پہ کرنے لگی ادائے بہار

کِھلے وہ پھول وہ چلنے لگی ہوائے بہار

ہمارے زخمِ جِگر خود بخود ہرے ہوتے

اگر نہ ہوتی زمانے میں ابتدائے بہار

خِزاں سے پہلے ہی بلبل کی موت کیا معنی

خدا نہ زِیست میں دِکھلائے انتہائے بہار

قریب بیٹھنے پر یوں خفا ہوئے ہم سے

اب آؤ خیر دِکھا دیں تمہیں فضائے بہار

سُنا ہے رنج میں ہیں آج حضرتِ عالم

نظر ہے جانبِ ساغر زباں پہ ہائے بہار


عالم لکھنوی

No comments:

Post a Comment