میرا سایہ پسِ دیوار ہو، ایسا نہیں ہوتا
فضا کتنی بھی ناہموار ہو، ایسا نہیں ہوتا
کھڑا ہوں عشق کے دریا کنارے میں بھی صدیوں سے
کبھی یہ آگ بھی گلزار ہو، ایسا نہیں ہوتا
نہیں ہوتا ہے ایسا بھی کہ اس سے دور ہوجائیں
الگ رہنے کو دل تیار ہو، ایسا نہیں ہوتا
نہ ہوتا میں تو حسن کل بھی محتاج تعارف تھا
سبھی میں جرأتِ دیدار ہو، ایسا نہیں ہوتا
تھکن پیروں کی بستر پا کے بولی؛ حوصلہ رکھو
”کوئی رستہ سدا دشوار ہو ، ایسا نہیں ہوتا“
شِکم کی آگ نے اس کو سبھی کرتب سکھائے ہیں
ہر اک بچہ بڑا فنکار ہو، ایسا نہیں ہوتا
وہ جس سے آخری دم تک تجسس ہو کہانی میں
ہمیشہ مرکزی کردار ہو، ایسا نہیں ہوتا نہیں
نہیں آتے ہیں آنکھوں میں کسی کی بے سبب آنسو
کبھی قاتل بھی ماتم دار ہو، ایسا نہیں ہوتا
مِرا وہ دشمن جاں ہو، مِرا قاتل بھی وہ ٹھہرے
اسی کے ہاتھ میں تلوار ہو، ایسا نہیں ہوتا
حسن امام رضوی
No comments:
Post a Comment