Showing posts with label سلطان سکون. Show all posts
Showing posts with label سلطان سکون. Show all posts

Saturday, 13 November 2021

بچھڑ کے تجھ سے کہاں مطمئن رہے ہیں ہم

 بچھڑ کے تجھ سے کہاں مطمئن رہے ہیں ہم

سُلگتے بُجھتے ہوئے رات دن رہے ہیں ہم

کسی بھی طور سہی زندگی بسر کر لی

گرفتہ دل ہی مگر تیرے بِن رہے ہیں ہم

تھی زندگی تو وہی جو کٹی محبت میں 

کہ اب تو عمر کے دن رات گِن رہے ہیں ہم

Thursday, 4 February 2021

وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا

 وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا

دکھوں پہ صبر کی تلقین کر چل دے گا

کشید کر کے گلِ جاں کی ساری خوشبوئیں

پھر اس کے بعد زمانہ تجھے مسل دے گا

خرد کی بات میں کچھ مصلحت بھی ہوتی ہے

جنوں نے جو بھی دیا فیصلہ اٹل دے گا

Wednesday, 3 February 2021

ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ

 ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ 

ستارے توڑ کے لائے گا آسمان سے وہ 

نہ ہم کو پار اتارا نہ آپ ہی اترا 

لپٹ کے بیٹھا ہے پتوار و بادبان سے وہ 

ہماری خیر ہے عادی ہیں دھوپ سہنے کے ہم 

ہوا ہے آپ بھی محروم سائبان سے وہ

Monday, 18 January 2021

جب وہ تنہا کبھی ہوا ہو گا

 جب وہ تنہا کبھی ہوا ہو گا

یاد شاید مجھے کیا ہو گا

سوچتا ہوں مِری طرح وہ بھی

میرے بارے میں سوچتا ہو گا

آہ بھر کے ہوں مطمئن ایسے

جیسے اس نے بھی سن لیا ہو گا

Saturday, 16 January 2021

ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے

 ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے

اس کو کیا اس کی پروا ہے

کتنی گہری خاموشی ہے

کتنا گہرا سناٹا ہے

ہے در پیش مسافت کیسی

ایک زمانہ ہانپ رہا ہے

Tuesday, 17 November 2020

سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی

 سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی

پلٹ کے ہم نے کوئی اس سے التجا نہیں کی

پھر اس کے بعد کہیں طبع آشنا نہیں کی

ہمارے دل میں کسی اور نے بھی جا نہیں کی

جگر فگار رہے قیس سے سوا، لیکن

گئے نہ دشت کو اور چاک بھی قبا نہیں کی