بچھڑ کے تجھ سے کہاں مطمئن رہے ہیں ہم
سُلگتے بُجھتے ہوئے رات دن رہے ہیں ہم
کسی بھی طور سہی زندگی بسر کر لی
گرفتہ دل ہی مگر تیرے بِن رہے ہیں ہم
تھی زندگی تو وہی جو کٹی محبت میں
کہ اب تو عمر کے دن رات گِن رہے ہیں ہم
بچھڑ کے تجھ سے کہاں مطمئن رہے ہیں ہم
سُلگتے بُجھتے ہوئے رات دن رہے ہیں ہم
کسی بھی طور سہی زندگی بسر کر لی
گرفتہ دل ہی مگر تیرے بِن رہے ہیں ہم
تھی زندگی تو وہی جو کٹی محبت میں
کہ اب تو عمر کے دن رات گِن رہے ہیں ہم
وہ عمر بھر کی رفاقت کا اتنا پھل دے گا
دکھوں پہ صبر کی تلقین کر چل دے گا
کشید کر کے گلِ جاں کی ساری خوشبوئیں
پھر اس کے بعد زمانہ تجھے مسل دے گا
خرد کی بات میں کچھ مصلحت بھی ہوتی ہے
جنوں نے جو بھی دیا فیصلہ اٹل دے گا
ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ
ستارے توڑ کے لائے گا آسمان سے وہ
نہ ہم کو پار اتارا نہ آپ ہی اترا
لپٹ کے بیٹھا ہے پتوار و بادبان سے وہ
ہماری خیر ہے عادی ہیں دھوپ سہنے کے ہم
ہوا ہے آپ بھی محروم سائبان سے وہ
جب وہ تنہا کبھی ہوا ہو گا
یاد شاید مجھے کیا ہو گا
سوچتا ہوں مِری طرح وہ بھی
میرے بارے میں سوچتا ہو گا
آہ بھر کے ہوں مطمئن ایسے
جیسے اس نے بھی سن لیا ہو گا
ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے
اس کو کیا اس کی پروا ہے
کتنی گہری خاموشی ہے
کتنا گہرا سناٹا ہے
ہے در پیش مسافت کیسی
ایک زمانہ ہانپ رہا ہے
سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی
پلٹ کے ہم نے کوئی اس سے التجا نہیں کی
پھر اس کے بعد کہیں طبع آشنا نہیں کی
ہمارے دل میں کسی اور نے بھی جا نہیں کی
جگر فگار رہے قیس سے سوا، لیکن
گئے نہ دشت کو اور چاک بھی قبا نہیں کی