Tuesday, 17 November 2020

سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی

 سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی

پلٹ کے ہم نے کوئی اس سے التجا نہیں کی

پھر اس کے بعد کہیں طبع آشنا نہیں کی

ہمارے دل میں کسی اور نے بھی جا نہیں کی

جگر فگار رہے قیس سے سوا، لیکن

گئے نہ دشت کو اور چاک بھی قبا نہیں کی

خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کے یہ کہہ دے

کہ ہم نے تجھ سے محبت میں انتہا نہیں کی

مگر تُو پھر بھی گلہ مند ہے تو ہوتا رہے

کہ ہم نے تجھ سے وفا کی نہیں تو جا نہیں کی

ضرورتیں تو کئی طرح کی رہیں درپیش

امیر شہر کے در پر کبھی صدا نہیں کی

خفا کیا ہے خدا کو تو بارہا، لیکن

خدا کا شکر خفا خلقتِ خدا نہیں کی

ہمارا زعمِ سخن رہ گیا دھرے کا دھرا

کہ اس کے سامنے اک بات بھی بنا نہیں کی

رہی ہے دل ہی میں روداد اپنے دکھ کی سکون

کہیں کہا نہیں کی، اور کہیں سنا نہیں کی


سلطان سکون

No comments:

Post a Comment